Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
170 - 649
    پیارے اسلامی بھائیو!راہِ سلوک بہت دُشوار گزار اورسالک کے لئے بہت مشکل ہے۔ اسی راہ میں حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام آنسو بہاتے رہے،حضرتِ سیِّدُنا نوح علیہ  الصلٰوۃوالسلام نے گریہ وزاری کی، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خلیل حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کوآگ میں ڈالا گیا ،حضرتِ سیِّدُنااسماعیل علیہ الصلوۃ و السلام کو ذَبح کیا گیا، حضرتِ سیِّدُنا یوسف علیہ الصلوۃ و السلام کو فروخت کیا گیا، حضرتِ سیِّدُنازکریاعلیہ الصلوۃ و السلام پر آرا چلایا گیا، حضرتِ سیِّدُنا یحیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کوشہید کیا گیا، حضرتِ سیِّدُنا ایوب علیہ الصلوۃ و السلام کو آزمایا گیا، حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روح اللہ علیہ الصلٰوۃ والسلام خوفِ الٰہی میں گھومتے رہے اور نبئ آخر الزماں حضرتِ سیِّدُنا محمد ِمصطفی،احمد ِمجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ساری زندگی فقر اپنایا۔

    اے میرے بھائی!اس راہ میں پہلا قدم روح کو فنا کرناہے۔ شاہراہ تو موجودہے سالک کہاں ہے؟ قمیص تو موجود ہے پہننے والے کہاں ہیں؟ طورِ سینا تو موجود ہے اس پر فائز ہونے والے کہاں ہیں؟ اے جنید بغدادی کی سی تڑپ رکھنے والو ! آؤاور اس راہ پہ چلو، اے شیخ ابوبکرشبلی کی محبت کے دعویدارو !ہماری بات سنواور اے ابراہیم بن ادہم کے دیوانو! ادھرمتوجہ ہو جاؤ (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)۔
مقامِ فنا:
    حضرتِ سیِّدُنا ابو بکرشبلی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پہاڑ پر ریحانہ عابدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کویہ شعر پڑھتے سنا:
؎ اَحْضَرْتَنِیْ فِیْکَ وَلٰکِنْ		غَیْبَتِیْ فِیْ التَّجَلِّیْ
    ترجمہ: (اے میرے رب!) تو نے مجھے اپنی بارگاہ میں حضوری عطا فرمائی مگر میں تیری تجلیات میں گم ہوگئی۔

    میں نے اسے دائیں بائیں تلاش کیا تو نظر آئی میں نے سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا۔ میں نے کہا: ''اے ریحانہ!'' اس نے جواب دیا: ''اے شبلی(علیہ رحمۃ اللہ القوی) !میں حاضر ہوں۔ '' میں نے پوچھا :''کس کو ڈھونڈ رہی ہو؟'' تو اس نے
بقیہ۔۔۔۔۔۔ عطا و فضل سے حاصل ہو گا وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے یعنی کوئی بشر مجھے دُنیا میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے اگرچہ دنیا میں نہ ہو کیونکہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ روزِ قیامت مؤمنین اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے فیضیاب کئے جائیں گے علاوہ بریں یہ کہ حضرتِ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام عارف باللہ ہیں۔ اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا توآپ ہر گز سوال نہ فرماتے۔ اور پہاڑ کا ثابت رہنا امر ممکن ہے کیونکہ اس کی نسبت فرمایا، ''جَعَلَہ دَکًّا'' اس کو پاش پاش کردیا تو جو چیز اللہ تعالیٰ کی مجعول(بنی ہوئی ) ہو اور جس کو وہ موجود فرمائے ممکن ہے کہ وہ نہ موجود ہو اگر اس کو نہ موجود کرے کیونکہ وہ اپنے فعل میں مختار ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ کا استِقرار امرِ ممکن ہے، محال نہیں اور جو چیز امرِ ممکن پر معلَّق کی جائے وہ بھی ممکن ہی ہوتی ہے محال نہیں ہوتی۔ لہٰذا دیدارِ الٰہی جس کو پہاڑ کے ثابت رہنے پر معلَّق فرمایا گیا وہ ممکن ہوا تو اُن کا قول باطل ہے جواللہ تعالیٰ کا دیدار محال بتاتے ہیں۔''
Flag Counter