| حکایتیں اور نصیحتیں |
لئے کر رہے ہو یا شرارت کے لئے ؟'' ہارون الرشیداس کے فوراً جواب دینے سے بہت حیران ہوا اورکہنے لگا:'' نہیں،میں نے تو حصولِ علم کے لئے سوال کیا ہے ۔'' یہ سن کر اعرابی بولا:''توپھر اٹھ اور سوال کرنے والے کے مقام پر بیٹھ جا۔'' خلیفہ ہارون الرشیدکھڑا ہوا اور اعرابی کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا تو اعرابی نے کہا:''اب تو صحیح جگہ بیٹھااب جو پوچھنا ہے پوچھ ۔ ''تو ہارون الرشید نے سوال کیا:'' مجھے اس کے متعلق بتائیے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ پر فرض کیا ہے۔'' اعرابی کہنے لگا :'' تم کس فرض کے متعلق پوچھ رہے ہو ؟ ایک فرض کے متعلق یا پانچ کے متعلق ؟ یا سترہ کے متعلق؟یا چونتیس کے متعلق؟ یا چورانوے کے متعلق ؟ یا چالیس میں سے ایک کے متعلق؟ یا زندگی بھرمیں ایک کے متعلق ؟یا دو سو میں سے پانچ کے متعلق ؟'' ہارون الرشید بطورِ مزاح ہنس پڑا،پھر کہنے لگا:''میں نے تم سے صرف فرض کے متعلق پوچھا اور تم نے مجھے پورے زمانے کا حساب دے دیا۔'' اعرابی بولا: ''اے ہارون! اگر دین میں حساب نہ ہوتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت تمام مخلوق سے حساب نہ لیتا ۔چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے :
(16) فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیۡنَابِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِیۡنَ ﴿47﴾
ترجمہ کنزالایمان : تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہو گا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو ۔(پ17،الانبیآء:47)
جب اعرابی نے خلیفہ کو ''یا ہارون'' کہہ کر مخاطب کیا اور ''یا امیر المؤمنین'' نہ کہا توہارون الرشید کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہوگئے، اس کی حالت متغیر ہو گئی اور اسے سخت تکلیف پہنچی مگر اللہ عزَّوَجَلَّ نے غضب سے اس کی حفاظت فرمائی اور جب اس نے جان لیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس اعرابی کو اس کلام کی طاقت و توفیق عطافرمائی ہے تووہ اپنی حالت پر لوٹ آیا۔ پھر ہارون الرشید نے کہا: ''میرے آباء واجداد کی مِٹی کی قسم! اگرتونے اپنی بات کی وضاحت نہ کی تو صفا و مروہ کے درمیان میں تیری گردن مارنے کا حکم دے دوں گا۔'' دربان نے گزارش کی: ''اے امیر المؤمنین!اس مقدس مقام کی عظمت کے پیشِ نظر اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے اسے معاف کر دیجئے۔'' اعرابی ان دونوں کی بات سن کرہنسنے لگا حتی کہ وہ چِت لیٹ گیا،ہارون الرشید نے پوچھا: ''کیوں ہنس رہے ہو ؟''تواس نے جواب دیا:''تم دونوں پر حیرت کرتے ہوئے ہنس رہاہوں کہ ایک یقینی موت کو بخشوانا چاہتا ہے اوردوسرااس موت کے لانے میں جلدی کر رہاہے جس کا وقت نہیں آیا۔''جب ہارون الرشید نے اس کی یہ بات سنی تو دنیا کو حقیر سمجھنے لگا۔ پھر اس نے کہا:'' میں تجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی بات کی وضاحت کر دے، میرا دل اس کی وضاحت سننے کے لئے بے چین ہے ۔''
تو اعرابی نے جواب دیتے ہوئے کہا: '' تم نے پوچھا تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے تو سنو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پر کثیر امور فرض کئے ہیں۔ جومیں نے تمہیں ایک فرض کے متعلق کہاہے تووہ دینِ اسلام ہے ، پانچ فرائض سے مرادپانچ