Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
159 - 649
پُر اسرار اَعرابی:
    ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشید نے حرمِ مکہ میں داخل ہو کر طواف شروع کیااور عام لوگوں کو طواف سے منع کر دیالیکن ایک اعرابی خلیفہ کے آگے آگے چلتے ہوئے اس کے ساتھ طواف کرنے لگا ، خلیفہ پر یہ بات ناگوار گزری، اپنے دربان کی طرف متوجہ ہوا گویا کہ یہ اشارہ تھاکہ اس کو منع کرے، دربان نے آگے بڑھ کر اس اعرابی سے کہا:'' اے بدو! طواف نہ کرتاکہ مسلمانوں کا امیرطواف کرلے۔'' اعرابی نے جواب دیا:''اس مقام اور بیتِ حرام میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب لوگ برابر ہیں۔ چنانچہ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
 (15) سَوَآءَۨ الْعَاکِفُ فِیۡہِ وَالْبَادِ ؕ وَمَنۡ یُّرِدْ فِیۡہِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪25﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اورپردیسی کااورجواس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔ (پ17،الحج،25)

    جب ہارون الرشید نے اعرابی کا یہ جواب سنا تو دربان کو روکنے سے منع کردیا پھر بوسہ دینے کے لئے حجرِ اسود کے پاس آیا تو اعرابی نے اس سے پہلے بوسہ دے لیا،جب مقامِ ابراہیم پر نمازپڑھی تو اعرابی نے پھر آگے بڑھ کر اس سے پہلے نماز ادا کرلی ۔ جب ہارون الرشید نماز و طواف سے فارغ ہوا تودربان کو حکم دیا:''اعرابی کومیرے پاس لاؤ۔''دربان اعرابی کے پاس آیا اور کہنے لگا:'' امیرالمؤمنین کے پاس چلو۔''اعرابی نے جواب دیا:''مجھے اس کی حاجت نہیں ،اگر اسے کوئی حاجت ہے تو وہ خود ہی پوری کرنے کی کوشش کرے ۔''دربان غصے میں پلٹااورخلیفہ کو اس کی بات بتائی۔ یہ سن کر ہارون الرشید نے کہا: ''اس نے سچ کہا ہے، ہم حاجت مند ہیں توہمیں ہی اس کے پاس جاناچاہے۔''پھرہارون الرشید اُٹھا جبکہ دربان اس کے سامنے کھڑاتھا اور اعرابی کے پاس جا کر اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا۔خلیفہ نے اس سے پوچھا:'' اے عربی بھائی !کیا میں تمہاری اجازت سے یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟''تواعرابی نے بلاخوف وخطر جواب دیا: '' یہ گھر میرا نہیں، نہ ہی حرم میرا ہے، یہ گھر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہے اور حرم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا، یہاں ہم سب برابر ہیں۔ تُواگر چاہے تو بیٹھ جا اور چاہے تو لوٹ جا۔'' 

    ہارون الرشید نے جب ایسی بات سنی جو اس کے ذہن میں کھٹکی بھی نہ تھی تو اسے انتہائی ناگوار گزرا، وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کوئی شخص میرے ساتھ یوں گفتگو کریگا۔بہرحال وہ اس اعرابی کے پہلو میں بیٹھ گیا اوراس سے پوچھنے لگا: ''اے اعرابی! میں تم سے تمہارے فرض کے متعلق پوچھتاہوں،اگرتم اسے بجالاتے ہو تو دیگرفرائض کو بھی اچھی طرح ادا کرتے ہو گے اور اگر اسے ہی ادا نہیں کرتے تو دیگر فرائض میں بھی کوتاہی کرتے ہو گے۔'' اعرابی نے اُلٹاخلیفہ سے سوال کر دیا: ''تم یہ سوال سیکھنے کے
Flag Counter