Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
156 - 649
(6) وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ ۚ لَا یُقْضٰی عَلَیۡہِمْ فَیَمُوۡتُوۡا وَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُمۡ مِّنْ عَذَابِہَا ؕ کَذٰلِکَ نَجْزِیۡ کُلَّ کَفُوۡرٍ ﴿ۚ36﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں نے کفر کیا اُن کے لئے جہنم کی آگ ہے نہ اُ ن کی قضا آئے کہ مرجائیں اور نہ اُ ن پر اس کا عذاب کچھ ہلکا کیا جائے ہم ایسی ہی سزادیتے ہیں ہربڑے نا شکرے کو ۔(پ22،فاطر:36)

    ان کے لئے جہنم میں رونا ہی رونا اور بھڑکنے والی آگ کا عذاب ہے۔
(7) وَ ہُمْ یَصْطَرِخُوۡنَ فِیۡہَا ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعْمَلُ ؕ اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمۡ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیۡہِ مَنۡ تَذَکَّرَ وَ جَآءَکُمُ النَّذِیۡرُ ؕ فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿٪37﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ اُس میں چلاتے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمیں نکال کہ ہم اچھا کام کریں اُ س کے خلاف جو پہلے کرتے تھے۔ اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈرسنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا تھا تو اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔ (پ22،فاطر: 37)

    حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ سے ستر درجے کم ہے اوریہ  (دنیا کی آگ) بھی جہنم کی آگ سے روزانہ سترمرتبہ پناہ مانگتی ہے ۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب صفۃ النار، الحدیث۱۸ ۴۳، ص۲۷۴0، مختصر)
    نبئ پاک،صاحبِ لولاک،سِیَّا حِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''جہنم کی آگ کوتم جتنا چاہو بیان کروتم اس کو جتنا بھی بیان کرو گے یہ اس سے بھی سخت ہوگی۔''
  (سیراعلام النبلاء،الرقم۵۲۵ ابوجعفرالباقر،ج۵،ص۳۴۵)
جہنمیوں کی پکار کاجواب:
    حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ''جہنمی داروغۂ جہنم کو پکا ریں گے لیکن انہیں چالیس سال تک کوئی جواب نہ ملے گا پھرجواب دیا جائے گا :
'' اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں تو ٹھہرنا ہے۔''(پ۲۵،الزخرف: ۷۷)                               یعنی ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ وہ دوبارہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پکارتے ہوئے التجا کریں گے :
(8) قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیۡنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیۡنَ ﴿106﴾رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴿107﴾
ترجمۂ کنزالایمان: کہیں گے اے ہمارے ر ب! ہم پر ہماری بد بختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ اے رب ہمار ے! ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں ۔(۱)(پ18،المؤ منون:106۔107)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''ترمذی کی حدیث میں ہے کہ دوزخی لوگ جہنم کے داروغہ مالک کو چالیس برسوں تک پُکارتے رہیں گے ۔اس کے بعد وہ کہے گا کہ تم جہنم ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter