| حکایتیں اور نصیحتیں |
(4) یَوْمَ تُبَدَّلُ الۡاَرْضُ غَیۡرَ الۡاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوۡا لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ﴿48﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے ۔(پ13، ابراھیم: 48)(۱)
جہنمیوں پر سخت مصائب نازل ہوں گے اور گرد وغبار چھا جائے گا، ان کی پلکوں کے پردوں سے بارش کی طرح خون برسے گا اور بے چینی وآزُردگی انہیں ہرجانب سے گھیر لے گی۔جہنمیوں کاگوشت جھڑ جائے گا :
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جب اہلِ دوزخ کو دوزخ کی طرف ہانکا جائے گاتوجہنم ان سے سختی سے پیش آئے گی اور اُن پر ایسی بھڑکے گی کہ کسی ہڈی پر گوشت نہ رہنے دے گی یہاں تک کہ کونچوں تک جا پہنچے گی ۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث۲۷۸، ج۱، ص۹۲۔بتغیر)
اس وقت جہنمی اس حال میں ہوں گے کہ انہیں گناہوں کی وجہ سے ڈانٹا جارہاہوگا،وہ شدید عتاب میں ہوں گے، ان کی قید اورعذاب میں ہر لمحہ اضافہ ہوتاجائے گا اوروہ شدید دکھ اور تکلیف میں ہوں گے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی سچی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے :
(5) اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیۡہِمْ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوۡدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الْعَذَابَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں ۔(پ5،النسآء:56)
وہ دُنیوی زندگی پرخوش ہو گئے، صور پھونکے جانے کو بھول بیٹھے اور جھوٹی اُمیدوں کے دھوکے میں آگئے ۔1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اُس دن سے روزِ قیامت مراد ہے۔ زمین و آسمان کی تبدیلی میں مفسّرین کے دو قول ہیں: ایک یہ کہ اُن کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے، مثلاً زمین ایک سطح ہوجائے گی نہ اُس پر پہاڑ باقی رہیں گے، نہ بلند ٹیلے، نہ گہرے غار، نہ درخت، نہ عمارت، نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان۔ اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور آفتاب و ماہتاب کی روشنیاں معدوم(یعنی نہ ) ہوں گی۔ یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی۔ اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہوگی سفید و صاف۔ جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو، نہ گناہ کیا گیا ہو۔ اور آسمان سونے کا ہوگا۔ یہ دو قول اگرچہ بظاہر باہم مختلف معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک صحیح ہے اور وجہِ جمع یہ ہے کہ اوّل تبدیل صفات ہوگی اور دوسری مرتبہ بعد حساب تبدیل ثانی ہو گی۔ اس میں زمین و آسمان کی ذاتیں ہی بدل جائیں گی۔