Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
157 - 649
 (9) قَالَ اخْسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿108﴾
ترجمۂ کنزالایمان: رب فرمائے گا:دھتکارے (خائب وخاسر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔(۱)(پ18،المؤمنون: 108)

    حضرتِ سیِّدُنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم!اس کے بعد وہ ایک کلمہ بھی نہ کہیں گے، پھران کے لئے جہنم میں چیخناچِلاَّنا ہی رہ جائے گا، ان کی آواز گدھوں جیسی ہو گی ،پہلے چیخیں چلائیں گے اور آخرمیں رَینکیں گے۔''
(جامع الترمذی،ابواب صفۃ جھنم،باب ماجاء فی صفۃ طعام اھل النار،الحدیث۲۵۸۶،ص۱۹۱۲۔التر غیب والترھیب، کتاب صفۃ الجنۃ والنار ،فصل فی بکا ئھم وشھیقھم، الحدیث ۵۶۸۵ ،ج ۴، ص۲۹۲، بتغیرٍ قلیلٍ مختصر)
حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصیحت :
    حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایاکرتے: ''اے لوگو! کیا تم میں اس کی طاقت ہے؟ کیا تم جہنم کی آگ برداشت کر سکتے ہو؟اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت تمہارے لئے اس سے بہت آسا ن ہے لہٰذاتم اس کی اطاعت کرو۔''
 (حلیۃ الاولیاء ،کعب الاحبار،الحدیث۷۵۴۲،ج۵،ص۴0۸)
     حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ''جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
''وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۴۳﴾۟ۙ
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔(پ۱۴،الحجر ،۴۳)'' توحضرتِ سیِّدُنا سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ سر پر رکھ لیا، پھرتین دن تک اس طرح حیرانی وپریشانی کے عالم میں گھر سے باہر رہے کہ کوئی بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنبھال نہ سکتا تھا، یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایا گیا۔''
 (10) سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪21﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پنا ہ نہیں ۔(پ13،ابراھیم:21)
بقیہ ۔۔۔۔۔۔ہی میں پڑے رہو گے پھر وہ پروردگار کو پکاریں گے اور کہیں گے، اے رب ہمارے! ہمیں دوزخ سے نکال ا ور یہ پُکار اُن کی دُنیا سے دُونی عمر کی مدّت تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد انہیں یہ جواب دیا جائے گا جو اگلی آیت میں ہے(خازن)اور دُنیا کی عمر کتنی ہے، اس میں کئی قول ہیں۔ بعض نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے، بعض نے کہا بارہ ہزار برس، بعض نے کہا تین لاکھ ساٹھ برس۔ واللہ تعالیٰ اعلم(تذکرہ قرطبی) ۔

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اب اُن کی اُمیدیں منقطع ہوجائیں گی اور یہ اہلِ جہنّم کا آخر کلام ہوگا۔ پھر اس کے بعد انہیں کلام کرنا نصیب نہ ہوگا روتے چیختے ڈکراتے بھونکتے رہیں گے۔''
خچر جیسے بچھو اور اونٹ جیسے سانپ
    مروی ہے کہ اہلِ دوزخ ہزار سا ل جزع وفزع کرتے رہیں گے لیکن ان کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہوگی تو کہیں گے :
Flag Counter