Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
153 - 649
سماعتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم:
    حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ تھے،حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک گرَجدار آواز سنی تو ہم سے استفسار فرمایا: ''کیا تم جانتے ہو کہ یہ آواز کیسی تھی ؟''ہم نے عرض کی:
''اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَم
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' یہ ایک پتھرتھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا وہ اَب تک اس میں گر رہا تھا یہاں تک کہ اب اس کی تہہ میں پہنچ گیا ۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الجنۃ ، باب جھنم اعا ذنا اللہ منھا ، الحدیث ۲۸۴۴، ص۱۱۷۱)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا تمہیں ان احوال سے عبرت حاصل نہیں ہوتی؟کیا تم جہنم کی آگ اور اس کی ہولناکیوں سے نہیں ڈرتے؟کیا اس کی زنجیروں اور طوقوں سے تمہیں خوف نہیں آ تا ؟تعجب ہے اس شخص پر جو جنت میں اپنے باپ حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام کی پشتِ مبارک میں تھاپھر بھی وہ کیسے اس جہنم میں داخل ہو جائے گاجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
جہنمی اہل جنت سے کھانااور پانی مانگیں گے :
    مروی ہے:''آگ کے شعلے جہنمیوں کو بلند کریں گے یہاں تک کہ وہ چنگاریوں کی طرح اُڑنے لگیں گے، جب وہ بلند ہوں گے تو اہلِ جنت پر جھا نکیں گے، اُن کے درمیان پردہ ہو گا، جنّتی، جہنمیوں سے کہیں گے: ''ہم نے پالیا جس کا ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ نے ہم سے وعدہ فرمایاتھاتوکیا تم نے بھی پالیا جس کا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے تم سے وعدہ کیا تھا؟''  وہ کہیں گے :''ہاں ہم نے بھی پا لیا۔''پھرایک اعلان کرنے والااعلان کریگا:''ظالموں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہے۔'' جہنمی جب بہتی نہریں دیکھیں گے تواہلِ جنت سے کہیں گے: '' ہمیں پانی یا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو رزق تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ دو۔''تواہلِ جنت کہیں گے: ''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام فرمادی ہیں۔'' پھر عذاب کے فرشتے انہیں لوہے کے گُرزوں سے جہنم کی تہہ تک لوٹا دیں گے۔'' بعض مفسرین نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کے تحت مذکورہ روایت نقل فرمائی ہے:
 (1)کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخْرُجُوۡا مِنْہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمْ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿20﴾
ترجمۂ کنزالایمان : جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اُسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہاجائے گا چکھو اُ س آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے ۔(پ21،السجدۃ:20)

    حضرتِ سیِّدُناا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
Flag Counter