Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
151 - 649
اس سے چھٹکارا بھی کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہوتمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔(پ۱۶، مریم:۷۱)( ۱)

    جہنم رنج واَلَم اور ذلت و رسوائی کا گھر ہے، اس کا انکار کرنے والوں کوبھی اس سے امان نہیں ہو گی، ان کے لئے ہمیشہ اس میں رہنا اور اسے بھولے رہنالکھ دیاگیا ہے، انہیں اس میں ند ادی جائے گی اور وہ سُن رہے ہوں گے :
ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ یُکَذِّبُ بِہَا الْمُجْرِمُوۡنَ ﴿ۘ۴۳﴾یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾
ترجمۂ کنزالایمان:یہ ہے وہ جہنم ہے جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں ۔(پ۲۷، الرحمٰن۴۳،۴۴)
    ہائے افسوس! وہ ایسا گھر ہے جس کی تکالیف پہنچ کر رہنے والی ہیں، جس کی اُمیدیں پوری نہیں ہوتیں، جس کے راستے تاریک ہیں،جس کی ہلاکتیں غیر واضح ہیں، اس کے رہنے والے جلتا، کھولتا ہو اپانی پئیں گے، اورہمیشہ اس کے عذاب میں مبتلا رہیں گے ،اس میں اپنی ہلاکت وبربادی کوپکاریں گے مگر اس میں ان کی امیدیں بھی ہلاک ہو جائیں گی،انہیں اس کی قید سے کبھی رہائی نہ ملے گی، پے در پے عذاب کے سبب وہ اس کے کشادہ راستوں اور مختلف حصوں سے فریاد کریں گے: اے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! ہم پر تیری وعید ثابت ہوگئی،اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! لوہے کے گرزوں نے ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ اے ہمارے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ ! عذاب سے ہماری کھالیں پک گئی ہیں۔ اے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں جہنم سے نکال دے، ہم دوبارہ نافرمانی نہیں کریں گے۔ تحقیق وہ قیدجہنمیوں کاکَچُومَر نکال دے گی،پھر انہیں اس میں ہمیشہ رہنے کا یقین ہوجائے گا، وہ معبودِ حقیقی کے غضب میں لوٹیں گے کیونکہ دنیا میں انہوں نے فسق وفجور کا بازار گرم کیا، کفارکے ساتھ میل جول بڑھایا لہٰذا جہنم کو ان کا ٹھکانہ بنا دیا جائے گا، یہ کتنا برا ٹھکانہ ہے، منکرین اورشکوک وشبہات کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کے لئے کتنی بری جگہ ہے، اس میں ان کا کھانا زقوم (جہنم کا کانٹے دار درخت)، پینا جہنمیوں کی پیپ اور پِگھلا ہوا سِیسَہ ہو گا:
کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوۡدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الْعَذَابَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں ۔ (پ۵،النسآء:۵۶)
بقیہ ۔۔۔۔۔۔ استدلال کیا جاتا ہے ۔بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر مرنے والے پر اس کا مقام صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ جنّتی پر جنّت کا اور دوزخی پر دوزخ کا، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تاآں کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ تجھ کو اس کی طرف اٹھائے۔''

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''نیک ہو یا بد مگر نیک سلامت رہیں گے اور جب اُن کا گذر دوزخ پر ہوگا تو دوزخ سے صدا اُٹھے گی کہ اے مومن گزر جا کہ تیرے نُور نے میری لپٹ سرد کردی حسن و قتادہ سے مروی ہے کہ دوزخ پر گزرنے سے پل صراط پر گزرنا مراد ہے جو دوزخ پر ہے۔''
Flag Counter