Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
150 - 649
بیان 13:                 جہنّم کا بیان
حمد ِباری تعالیٰ:
    تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اطاعت گزار بندوں سے جنت کی نعمتوں کا وعدہ فرمایااورمنکرین کوعذابِ جہنم کی وعید سنائی اور جس نے اس کی مضبوط بادشاہت کا انکار کیا اس پر اپنا غضب فرمایا، نافرمانوں کی پردہ پوشی فرمائی، اپنے گناہوں کا عذر پیش کرنے والوں کا عذر قبول فرمایا، جس نے اس کی بارگاہ میں آنسو بہائے اس کی مغفرت فرما دی،جو اس کی رضا کے لئے شکستہ دل ہوا رب عَزَّوَجَلَّ نے اسے درست کر دیا، جوکامیاب ہوا اسی کی مدد سے ہوا،جس نے اس کے عظیم احسانات کو یاد رکھا اس کو اچھا بدلہ عطا فرمایا۔ تمام نوری مخلوق، دائرے میں گھومتا آسمان،بجلی اپنی چمک دمک کے ساتھ،چلتے ہوئے بادل اور ہوا، بہتی نہریں،درختوں کی ٹہنیاں، رنگ برنگی کلیاں، پرندے اپنی غمزدہ آوازمیں ، باغات اپنے سبزے کے ساتھ،خشک میدان اپنے ٹیلوں کے ساتھ اور سمندر اپنی مچھلیوں کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، ہر ایک اپنی انوکھی زبان میں اس کی پاکی بیان کرتا ہے۔

     پاک ہے وہ ذات جو معبودِ عظیم، زندہ اور قائم رکھنے والا ہے،جس نے رزق کی تقسیم ، طے شدہ موت اورہر چیز کے لئے مقررہ وقت کا اندازہ لگایا، جس کی معرفت پانے میں عقل وسمجھ حیران وشَشْدَر ہے،جس نے اپنے نورِ رحمت سے اپنے خاص بندوں کے لئے جنت بنائی جنہیں وہ مہر لگی ہوئی صاف و شفاف پاکیزہ شراب سے سیراب کریگا اور جہنم کو اپنے شدید غضب سے اُن نافرمان بندوں کے لئے پیدا کیاجن کے لئے شقاوت لکھ دی گئی تھی،اس میں انہیں ہلاکت وبربادی، المناک عذاب اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہو گی، اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے جہنم کا ایک حصہ تقسیم کیا ہوا ہے۔پاک ہے وہ ذات جو سب کا خداہے ، ہمیشہ سے عظیم، قوت والا،شان وشوکت اورحسن جمال والا ہے،اپنی بادشاہی میں یکتا ہے، اوروہ ہمیشہ رہے گا ۔ اپنے اطاعت گزار کے لئے جنت بنائی اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو،اور نافرمان کے لئے جہنم بنائی اگرچہ وہ قریش کا آزاد شخص ہی کیوں نہ ہو اور اس کو مشرکین و کفار کا ٹھکانہ ، بد بختوں اور فاسقوں کے رہنے کی جگہ بنا دیا۔جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:آگ جس پر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں۔(۱)(پ۲۴، المؤمن: ۴۶)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اس (آگ) میں جلائے جاتے ہیں۔ حضرتِ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :''فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دو مرتبہ صبح و شام آگ پر پیش کی جاتی ہیں اور اُن سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا ۔مسئلہ : اس آیت سے عذابِ قبر کے ثبوت پر ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter