Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
145 - 649
ہوئے نہیں کہ اس کے متعلق کچھ بتا سکوں، میں اس کے ساتھ ملا ہوا بھی نہیں کہ میرا مقام اس سے قریب ہو اور نہ اس سے جدا ہوں کہ میرا مقام اس سے دور ہو۔ یقینا تم نے مجھ سے ایسے امر کا سوال کیا ہے جو میں نہیں جان سکتا اور تم نے ایسے راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ میں بھی ہمیشہ اس کی تلاش اور سراغ میں رہا مگر مجھے حیرت اوربھٹکنے کے سوا کچھ نہ ملا۔'' یہ سن کر سالکین کہنے لگے: ''اگر تو بھی اس کی معرفت حاصل نہ کر سکا تو اس بلند وبرتر ذات سے تیرے قرب کا کیا فائدہ! حالانکہ لوگوں نے تو تجھے بلند رتبہ قرار دیا ہے؟'' 

    تو عرش بولا: ''میرا اللہ عزَّوَجَلَّ سے ایسا ہی قرب ہے جیسا سانس کا اپنی نالیوں سے ہے اور میری اس سے ایسی ہی دُوری ہے جیسی تِیرچلانے والے سے تِیر کی ہوتی ہے، میں اس کی بارگاہ میں ایساہی حقیر ہوں جیسے غلام اپنے مالکوں کے سامنے ہوتا ہے، مجھے بھی اس کا اتنا ہی اشتیاق ہے جتنا عاشق کو اپنے محبوب سے ملاقات کے ایام کا شوق ہوتاہے۔'' انہوں نے دوبارہ کہا: ''پھر تُو ربّ عَزَّوَجَلَّ کے متعلق کیا کہتا ہے؟'' تو عرش کہنے لگا : میں وہی کہتا ہوں جو اس کی تلاش میں سرگرداں اور اپنی اُمیدیں نہ پانے والا کہتا ہے۔'' سالکین نے کہا: ''جب تُو اس کی تعریف کرے تو ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کراور کسی شئے کو اس کے مشابہ قرار دینے سے بچ اور یوں کہہ: وہ ایسا اوّل ہے کہ کوئی اوّل اس کا ثانی نہیں اور ایسا آخر ہے کہ کوئی آخراس کے قریب نہیں، ایسا ظاہر ہے کہ کوئی ظاہر اس کے مشابہ نہیں، ایسا باطن ہے کہ کوئی باطن اس کی برابری نہیں کر سکتا، ایسا دور ہے کہ کوئی مسافت اس جتنی نہیں ہو سکتی، ایسا قریب ہے کہ تو جب چاہے اس سے ملاقات کر لے، ایسا واحد ہے کہ کوئی واحد اس کے مقابل نہیں، وہ ایسا یکتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں کہ اس کی حد ختم ہو جائے، اگر تو اس سے خالص دوستی رکھے تووہ تجھے اپنے پسندیدہ جام سے پاک و صاف شربت پلائے گا اور اگر اس کی محبت کا جام پی لیا جائے تو پینے والا دوسروں کو پلانے والا بن جاتا ہے۔

    یا الٰہی! میرامقصود بس تو ہی تو ہے،اور تاریکیوں میں میرے لئے نور اور روشنی ہے۔ یا الٰہی! تیرے تو میرے علاوہ بھی بہت بندے ہیں مگر میرے لئے تیرے سوا کوئی نہیں، میں نے جہالت کے سبب تیری نافرمانی کی اوربرے افعال کے باوجودتجھ سے دعا کی پھر بھی تو نے اپنے فضل وکرم سے میری دعا قبول فرما ئی اورمیں نے تیری طرف رجوع کیا تو تُو نے میری اُمید پوری کر دی، میں نے تیری بارگاہ میں اپنے دل کی بیماری کا شِکوَہ کیا تو تُو نے میری تکلیف زائل فرمادی اور مجھے فوراً شفا عطا فرمادی، کتنے ہی خطرات اور مشکلات نے مجھے گھیرا مگر تو نے میری بھر پور اعانت کی اوردشمنوں کے خلاف میری مددفرمائی۔اے مشکلات اور تکالیف میں میری اُمیدگاہ! تیرے لئے ہی سب تعریفیں ہیں۔
پورا شہر مسلمان ہوگیا:
    حضرتِ سیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ  رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں کہ ''میں نے ایک سال حج کا عزم کیا۔جب اونٹنی پر سوار ہوا تو اس
Flag Counter