سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جوحق کوظاہرفرمانے والاہے،اپنے وعدوں کو پوراکرنے والا ہے۔بندے کی سعادت و شقاوت اسی کے دستِ قدرت میں ہے، گناہوں کو مٹانے والا، پردہ پوشی فرمانے والا، دلوں کی پیاس بجھانے والا، اپنے عشق کی بیماری لگانے والا اور شفادینے والاہے ، غموں کو دور کرنے والاہے، بادَل کو پیدا کرنے والااور اسے بھیجنے والا ہے۔ بجلی کو چمکانے والا اور اس سے روشنی ظاہر کرنے والا ہے،بجلی کوگرَج کی آواز دینے والا ہے، درختوں کو پتے دینے والا اور انہیں پروان چڑھانے والا ہے، کلیوں کو حسن اورخوبصورتی دینے والا ہے، پھلوں کو کڑوا اور میٹھا بنانے والاہے ، ماں کے پیٹ میں بچے کی تصویر بنانے والا اور اسے غذا دینے والا ہے،حق کو ثابت کرنے والا اوراسے باقی رکھنے والا ہے، باطل کوغلط ثابت کرنے والا مٹانے والا ہے۔ اس نے مخلوق کو اپنی پہچان کرائی تو اس کے بندے حیران وپریشان ہوگئے اوراس کی معرفت کی راہیں دشوار ہوگئیں اور سالکین نے میدانوں میں بستر جما دئیے اورپھر عقلوں کی طرف مائل ہوئے تو عقلوں نے جواب دیا: ہم تو یہ بھی نہیں جانتیں کہ ہم کہاں سے آئیں ، تو سالکین نے فکروں کی طرف اپنا قاصد بھیجا مگر وہ ایسی جگہ بھٹک گیا جہاں ہر سمجھ دار بھی بھٹک جاتا ہے ۔ پھر انہوں نے عقلوں کے ساتھ بصیرتوں کے چراغ روشن کئے اور نورِ ایمان کے ساتھ رہنمائی حاصل کی، جب بھی چراغ ان کے لئے روشن ہوتے ہیں تو وہ چلنے لگتے ہیں۔جب وہ عرفان کی منزل تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی ان کے لئے غیر مانوس ہوگئی اور اس کی کبریائی اُن سے چھپ گئی۔ پھر وہ دِلوں کی طرف پلٹے تو دلوں نے کہا : ہم توہر عیب سے منزہ و مبرّہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر ہیں ، اور گھر والا ہی اس میں موجود شئے کے متعلق زیادہ جانتا ہے۔
پھر انہوں نے اسمائے الٰہیہ عَزَّوَجَلَّ سے رہنمائی چاہی تو اسماء نے جواب دیا: ہم تواس کو نام دینے کی طاقت نہیں رکھتے پھر وہ صفات کی طرف متوجہ ہوئے تو صفات نے بھی یہی کہا کہ ہم اسے ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں پھر وہ کلمات کی طرف بڑھے توکلمات نے کہا: ہم تو صرف کلمات ہیں جو وحی کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے عرش سے التماس کرتے ہوئے عرض کی: ''کیا تو اپنے قرب کے سبب اس کی ذات تک پہنچا سکتا ہے یا اس کے قریب کرسکتا ہے؟'' تو مدہوشی میں ڈوبے ہوئے اور حیرت میں فنا عرش نے انہیں پکار کر کہا: ''میں اس کا احاطہ نہیں کر سکتا کہ اس کی پہچان حاصل کر سکوں، اور میں اس کو اٹھائے