کا رُخ کعبہ کی طرف ہی تھا لیکن جب میں نے اُس کی گردن پر ہاتھ مارا تووہ قُسطُنطُنیہ(اِستنبول) کی طرف مُڑگئی ۔میں نے کئی مرتبہ اس کا رُخ موڑا مگروہ قبلہ کی طرف نہ مڑی، میں نے اپنے دل میں کہا:''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اس میں ضرورکوئی راز پوشیدہ ہے۔''میں نے اُس کی مرضی کے مطابق اُسے جانے دیا اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!اگر تو مجھے اپنے گھر نہ جانے دے تو میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں،تمام معاملہ تیرے ہی پاس ہے ۔''فرماتے ہیں کہ اونٹنی تیزی سے چلتی ہوئی قسطنطنیہ میں داخل ہوگئی۔ جب میں شہر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ فتنہ وفساد میں مبتلاہیں۔میں نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اس کا سبب کیا ہے؟ تواس نے بتایا: ''بادشاہ کی بیٹی کی عقل زائل ہو گئی ہے اور لوگ کوئی ایساطبیب تلاش کر رہے ہیں جو اس کا علاج کرسکے ۔''
میں نے دل میں کہا: ''میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت کی قسم! اسی کام کے لئے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اس سال حج سے روک دیا ہے۔''میں نے ان لوگوں کو بتایا:''میں طبیب ہوں۔''انہوں نے پوچھا''کیا آپ علاج کریں گے؟''میں نے کہا : ''ہاں! اِنْ شَآءَ اللہ عزَّوَجَلَّ۔'' لوگوں نے میرا ہاتھ پکڑا اورمجھے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس نے اپنی بیٹی کا علاج میرے ذمے لگا دیا۔ میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کی اور کمرے میں داخل ہوگیا، میں نے وہاں لوہے کی کَھْنَک سنی اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: ''اے جنید ( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )!اونٹنی نے تجھے ہماری طرف لانے کی کتنی کوشش کی جبکہ تواسے کعبہ مشرَّفہ کی طرف پھیرتا رہا۔'' اس کلام سے میری عقل کھو گئی پھر میں اندر داخل ہوا تو ایسی لڑکی دیکھی کہ دیکھنے والوں نے اس سے زیادہ حسین لڑکی نہ دیکھی ہوگی، وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی، میں نے اس سے پوچھا:'' یہ کیسی حالت ہے؟'' تواس نے جواب دیا: ''اے دلوں کے طبیب! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس سے میں غم سے نجات پا جاؤں ۔'' میں نے اُسے کہا: