داؤد!کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلا یا جائے یا پیاساہے کہ تجھے سیراب کیا جائے یا بے لباس ہے کہ تجھے کپڑے پہنائے جائيں یا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے؟'' توآپ علیہ السلام نے بلند آواز سے ایسی گریہ وزاری کی جس کی تپش سے گھاس سوکھ گئی ۔ پھر اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی اور لغزش معاف فرما دی۔پھرآپ علیہ السلام نے عرض کی: ''اے رب عَزَّوَجَلَّ! تو میری لغزش میری ہتھیلی میں ظاہر فرما دے۔''
تو آپ علیہ السلام کی لغزش ہتھیلی میں لکھ دی گئی۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام اپنی ہتھیلی کھانے وغیرہ کے لئے دراز کرتے تو آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کے سامنے بیٹھا ہوا شخص اس کو دیکھ لیتا ۔ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس گلاس لایا جاتا جس میں دوتہائی پانی ہوتا۔اسے پکڑنے کے لئے اپنا ہاتھ دَراز کرتے اور اپنی لغزش دیکھتے تو گلاس نہ رکھتے یہاں تک کہ وہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے آنسوؤں سے بھرجاتا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! کیا تو میرے رونے پر رحم نہیں فرمائے گا؟'' اللہ عزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی : ''اے داؤد(علیہ السلام)! تجھے اپنی لغزش یاد نہیں اور رونا یاد ہے ؟ ''توآپ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی: ''یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! میں اپنی لغزش کیسے بھول سکتا ہوں۔ جب میں زبور کی تلاوت کرتا تھا تو پانی کابہاؤ رک جاتا، تیز ہوا ساکن ہو جاتی، پرندے میرے سر پر سایہ کرتے اور جنگلی جانور میرے محراب کے پاس آ جایا کرتے تھے۔ یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ! کیا یہ میرے اور تیرے درمیان دوری نہیں؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی :''اے داؤد(علیہ السلام)!وہ اطاعت کی محبت تھی اور یہ معصیت کی وحشت ہے۔ اے داؤد(علیہ السلام)! آدم(علیہ السلام) کو میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا، اس میں اپنی طرف سے خاص روح پھونکی، ملائکہ سے اس کو سجدہ کروایا، اُسے عزَّت کا لباس پہنایا اور تاج عطا کیا۔ جب میری بارگاہ میں اُس نے تنہائی کی شکایت کی تو میں نے اس سے اپنی بندی حوا کا نکاح کر دیا، اسے جنت میں ٹھہرایا حتی کہ اس سے لغزش ہوئی تو میں نے اسے بے سروسامانی کی حالت میں جنت سے اُتار دیا کہ وہ اپنی سمجھ سے نہیں جانتا تھا کہ کہاں جائے، وہ چالیس سال تک روتا رہا اگر اس کے آنسو ؤں کا وزن کیا جائے تو تمام مخلوق کے آنسوؤں کے برابر ہو جائے۔''