| حکایتیں اور نصیحتیں |
کے کلام کو دُہراتے ہیں،ان کے آنسو رخساروں پر بہہ پڑتے ہیں، خوف اور اس کی ملاقات کے اشتیاق میں رفتہ رفتہ محرابوں میں گرتے رہتے ہیں۔ مالک عَزَّوَجَلَّ ان کی طرف نظرِ رحمت فرماتے ہوئے پکارتاہے: ''اے میرے اہلِ معرفت احباب! تمہارے دل میری ذات میں مشغول ہیں اور تم نے اپنے دلوں سے میرے علاوہ سب کو نکال دیا ہے۔ تمہیں بشارت ہو! جس دن تم مجھ سے ملو گے تو سرور وقرب پاؤ گے۔پھر حضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین علیہ السلام سے فرماتا ہے :اے جبرائیل! جنہوں نے میرے کلام سے لذت حاصل کی ،مجھ سے راحت چاہی میں ان کی خلوتوں میں ان سے باخبرہوتا ہوں، ان کی گریہ و زاری اور آہ و بُکا سنتا ہوں، اُن کے بے چینی سے چہرہ پھیرنے اور کوشش کرنے کو دیکھتاہوں۔پھراللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: یہ رونا کیسا ہے جو میں سُن رہا ہوں؟ یہ گریہ وزاری کیوں ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ کیاتم نے کبھی سنا ہے یاتمہیں کسی نے کہا ہے کہ محب اپنے محبوبوں کو آگ کا عذاب دے گا؟ کیا تمہیں کسی نے بتایا ہے کہ میں اپنے پناہ مانگنے والوں کو دھتکار دوں گا؟میری عزت کی قسم! میں تمہیں ضرور جنت عطا کروں گا۔ تمہارے لئے حجاب اور پردے اٹھادوں گااور آنسوؤں کے عوض خوشیاں اور بشارتیں عطا کروں گا ۔
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس بندے کی آنکھوں سے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب آنسو نکل کر چہرے تک پہنچتے ہیں تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کو آگ پر حرام فرما دیتاہے اگرچہ وہ مکھی کے سرکے برابر ہوں۔''(سنن ابن ماجۃ،ابواب الزھد ، باب الحز ن والبکاء، الحدیث ۴۱۹۷ ، ص ۲۷۳۲)
حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:''حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام ہند کے پہاڑ پر سو سال سجدے میں روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سرندیب(سیلون،سری لنکا) کی وادی میں بہنے لگے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس وادی میں آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کے آنسوؤں سے دارچینی اور لَونگ وغیرہ کی فصلیں اگائیں اور اس وادی میں مور پیدا کئے۔ پھر حضرتِ سیِّدُناجبرائیل علیہ السلام حاضرہوئے اورعرض کی:''اپنا سرِ انور اٹھائیے، اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ(علیہ الصلٰوۃ والسلام)کو بخش دیا ہے ۔'' آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے اپنا سر اٹھایا۔پھر خانہ کعبہ کے پاس آکر طواف کیا ،ابھی طواف کے سات چکر مکمل نہ کئے تھے کہ آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام انسوؤں میں بھیگ گئے ۔''
(موسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتا ب الرقۃ والبکاء،الحدیث۳۲۴،ج۳،ص۲۳۵)
اے گنہ گار انسان!اپنے جد ِامجدکی حالت میں غوروفکر کر اورجو کچھ ان کے ساتھ معاملہ ہوااُسے یاد کر تیرے لئے اتنا ہی کافی ہو گا ۔حضرتِ سیِّدُنا مجاہدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرتِ سیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام چالیس دن تک سجدے کی حالت میں روتے رہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے حیاکے سبب کبھی (آسمان کی طرف ) اپنا سرنہ اٹھایا اور اتنا روئے کہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے آنسوؤں سے گھاس اُگ آئی اور آپ علیہ السلام کے سرکو ڈھانپ لیا۔پھر آپ علیہ السلام کو آوازدی گئی: ''اے