Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
134 - 649
بینائی پھر ضائع ہوگئی تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی: ''اے شعیب (علیہ الصلٰوۃوالسلام)! یہ رونا اگر جہنم کے خوف سے ہے تو میں نے تجھے جہنم سے امان عطا کردی اوراگر جنت کے شوق میں ہے تو میں نے تجھے جنت بخش دی ۔''تو آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی : ''اے رب عَزَّوَجَلَّ! تیرے عزّت وجلال کی قسم! میں نہ تیرے جہنم کے خوف سے اور نہ ہی تیری جنت کے شوق میں رو رہاہوں بلکہ تیری محبت کی گِرہ میرے دل میں لگی ہوئی ہے ۔ اسے تیرے دیدار کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکتی۔'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''جب ایسا ہے تومیں تجھے ضرور اپنا دیدار کراؤں گااور(وہ یوں کہ ) میں تیرے پاس اپناایک بندہ بھیجوں گا جو دس سال تیری خدمت کریگا پھر اُسے تیری مناجات کی برکت سے کلیم بنادوں گا۔''(کلیم سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں)

    آہ! وہ دل جس کوغم کی گرمی نے پگھلا دیا۔ آہ!وہ لوگ جنہیں گریہ وزاری نے فناکردیا۔ آہ!وہ اعضاء جنہوں نے برے کاموں کے بدلے اچھے کاموں کو قبول کیا۔ آہ!وہ جگر کہ مَلِک جلیل عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ہائے!وہ دل جن کو کوچ اورموت کے دن کی فکرنہیں؟ ہائے ! وہ دل کی سختی جس نے دل کو جہنم کی بری راہ پر چلایا۔ ہائے !وہ دل جو گناہوں سے بیمار ہوا۔ جس نے اطاعت کے لئے کمرباندھی تووہ کامیاب ہوگیا۔ اے مسکین! کیااب بھی تو اپنی خواہش سے بازنہ آئے گا؟ کیا اب بھی اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے دروازے کی طرف نہ لوٹے گا؟ کیاتوبھول گیاکہ تیرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے کیا کیا نعمتیں عطا کیں؟ کیا تجھ پر دلوں کو مہربان نہ کیا ؟کیاتجھے رزق سے غذانہ بخشی ؟ کیا تیرے دل میں اسلام ڈال کر تجھے ہدایت نہ دی ؟ کیا تجھے اپنے فضل سے قریب نہ کیا ؟ کیا اس کا احسان لمحہ بھر بھی تجھ سے ہٹا؟ لیکن تو نے غفلت کو قبول کیا ،خواہشات پر سوار ہوا، خطاؤں میں جلدی کی، اس کا عہد توڑ ڈالا، اس کے حکم کی نافرمانی کی ، گناہوں پر ڈٹا رہا ،اپنے نفس کی اطاعت اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی مخالفت کی۔ کیا تجھے حیا نہیں کہ وہ تیری نافرمانی کو دیکھ رہا ہے۔ اس محرومی و دوری کے باوجود اگر تو اس کی طرف رجوع کریگا تو وہ تجھے قبول فرما لے گا، تجھ سے راضی ہو جائے گا۔ اگر تو ہمیشہ اس کی اطاعت میں رہے تو وہ تجھے اپناقرب عطا فرمائے گا ۔ (امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں)
؎گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی		مرا حشر میں ہو گا کیا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !

تو اپنی ولایت کی خیرات دے دے 		مرے غوث کا واسطہ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !
    حضرتِ سیِّدُنا احمدبن ابی حواری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا اوران کو روتا ہو ا پاکر رونے کی وجہ دریافت کی توانہوں نے ارشاد فرمایا: ''اے احمد!میری آنکھیں پُرنم کیوں نہ ہوں جبکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب رات تاریک ہوجاتی ہے، لوگ سو جاتے ہیں اور ہر دوست اپنے دوست کے ساتھ تنہائی اختیار کرلیتا ہے ، تو اہلِ معرفت کے دل روشن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے لُطف اندوز ہوتے ہیں، ان کے عزم مالک ِ عرش عَزَّوَجَلَّ تک بلند ہوتے ہیں اوراہلِ محبت مناجات میں اپنے مالک عَزَّوَجَلَّ کے سامنے قدم بچھا دیتے ہیں،پُر درد آواز سے اس
Flag Counter