Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
133 - 649
    حضرتِ سیِّدُنا عامربن قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وقتِ وصال قریب آیا تو رونے لگے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی گئی: ''کون سی چیز آپ کو رُلارہی ہے ؟'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا:''میں سخت گرمیوں کے روزوں اور سردیوں میں قیام پر رو رہا ہوں۔'' (کیونکہ اب دوبارہ یہ موقع ہاتھ نہ آئے گا)

    حضرتِ سیِّدُنا ابوشَعْثَاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے دریافت کیا گیا: ''کون سی چیز آپ کو رُلا رہی ہے ؟'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا : ''مجھے راتوں کے قیام کا شوق تھا۔''

    حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم فر ماتے ہیں کہ ایک عبادت گزار شخص بیمارہوگیاتوہم اس کی عیادت کے لئے اس کے پاس گئے۔ وہ لمبی لمبی سانسیں لے کر افسوس کرنے لگا۔ میں نے اس کو کہا: ''کس بات پر افسوس کر رہے ہو؟''تو اس نے بتایا: ''اس رات پرجو میں نے سو کر گزاری اور اس دن پر جس دن میں نے روزہ نہ رکھا اور اس گھڑی پر جس میں مَیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل رہا۔''

    ایک عابد اپنی موت کے وقت رونے لگا۔اس سے وجہ دریافت کی گئی تو اس نے جواب دیا کہ ''میں اس بات پر روتا ہوں کہ روزے دار روزے رکھيں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ذاکرین ذکر کریں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ نمازی نمازیں پڑھیں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا ۔''

    اے غافل انسان! ان بزرگوں کودیکھ! مرنے پرکیسے افسُردہ اور نادِم ہو رہے ہیں کہ موت کے بعد عملِ صالح نہ کر سکیں گے۔ اپنی بقیہ عمرسے کچھ حاصل کرلے اور جان لے کہ جیسا کریگاویسا بھرے گا۔کیا تو ان لوگوں کی قبروں سے گزرتے ہوئے عبرت حاصل نہیں کرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ اپنی قبروں میں اطمینان سے ہیں لیکن پھر بھی تمہاری طرف لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں،وہ فوت شدہ اعمال کی تلافی چاہتے ہیں۔ کتنے واعظین نے وعظ کیا ،ڈرایا اور موت نے کتنی مِٹی کو آباد کر دیا؟ کیا تیرے پاس ایسے کان نہیں جو نصیحت کو سنیں؟کیا توایسی آنکھ نہیں رکھتا جو اپنے محبوب کے جدا ہونے پر آنسو بہائے؟ کیا تیرے پاس ایسا دل نہیں جوخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِڑگڑائے؟ کیاتجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی طمع نہیں ؟

    منقول ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا شعیب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی طرف وحی فرمائی:''اے شعیب (علیہ الصلٰوۃوالسلام)! میرے لئے اپنی گردن عاجزی سے جھکا لے اور اپنے دل میں خشوع پیدا کر، اپنی آنکھوں سے آنسو بہا اور مجھ سے دعا کر کہ میں تیرے قریب ہوں۔'' منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا شعیب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام سوسال روتے رہے یہاں تک کہ ان کی بینائی چلی گئی۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے دوبارہ بینائی عطا فرمائی توپھر سو سال روتے رہے یہاں تک کہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی