| حکایتیں اور نصیحتیں |
اور میری کمزوری کو قُوَّت سے بدل ڈال تاکہ میں تجھے راضی کرسکوں ۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ روناخوف سے آتاہے اوربے قراری رجاء وشوق سے ہوتی ہے۔ جب حضرتِ سیِّدُنامحمدمنکدررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رویاکرتے تواپنے چہرے اورداڑھی پر آنسو مَل لیاکرتے۔ان سے اس کے متعلق عرض کی گئی تو ارشاد فرمایا:''مجھے پتا چلا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ کھائے گی جسے آنسو چھوئیں۔(سیر اعلام النبلاء ، الرقم۷۷۷، محمدبن مکندربن عبد اللہ،ج۶،ص۱۵۹)
اے میرے عزیز!یہ روناگناہوں کی آگ کوبجھاتا،دلوں کی کھیتی کو زندہ کرتا اور مطلوب تک پہنچاتاہے۔اپنی تنہائیوں میں بے وفائیوں پر روتا رہ اور دن رات لغزشوں اورگناہوں پر آنسو بہاتا رہ۔
حضرتِ سیِّدُناابوبکرکنانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک ایسانوجوان دیکھا جس سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہ دیکھاتھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ''توکون ہے؟''تو اس نے جواب دیا : ''میں تقویٰ ہوں۔''میں نے اس سے استفسار کیا: ''تو کہا ں رہتا ہے ؟''تواُس نے بتایا :''ہرغمگین رونے والے کے دل میں۔''
منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا یزیدرقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت کی ۔آ پ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے قرا ء َت کی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا :''یہ قراء َت ہے تو رونا کہاں ہے ؟'' حضرتِ سیِّدُنا احمدبن ابی حواری علیہ رحمۃ اللہ الباری ارشادفرماتے ہیں:''میں نے اپنی لونڈی کوخواب میں دیکھاکہ اُس سے زیادہ حسین کوئی عورت نہ دیکھی تھی۔اس کا چہرہ حسن وجمال سے دَمَک رہاتھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ''تیرا چہرہ اتناروشن کیوں ہے ؟'' تو وہ کہنے لگی :''آپ کو وہ رات یادہے جب آپ (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے روئے تھے ؟'' میں نے کہا:''جی ہاں۔''اس نے کہا :''آپ کے آنسوؤں کاایک قطرہ میں نے اُٹھا کراپنے چہرے پر مل لیا تو چہرہ ایسا ہو گیا جیسا آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔''
حضرتِ سیِّدُنا عطاء سلمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بارے ميں منقول ہے کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بہت زیادہ گریہ وزاری فرماتے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''میں کیوں نہ روؤں حالانکہ موت کے پھندے میری گردن میں ہیں، قبر میرا گھر ہے اور قیامت میراٹھکاناہے اور اپنا اپنا حق مانگنے والے میرے اِردْگرد کھڑے ہوکر پکار رہے ہیں:''اے شخص! ہمارے اور تمہارے درمیان میدانِ محشر میں فیصلہ ہوگا۔''
حضرتِ سیِّدُنایزیدرقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے تو ان سے عرض کی گئی:''آپ کیوں روتے ہیں؟'' تو ارشادفرمایا: ''میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ اب مجھے راتوں کے قیام، دن کے روزوں اور ذکر کی مجالس میں حاضری کا موقع نہ ملے گا۔''