| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضور نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ دعا فرمایا کرتے :''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!مجھے رونے والی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے آنسو بہاتی رہیں اس سے پہلے کہ خون کے آنسو رونا پڑے اور داڑھیں پتھرہوجائیں۔''
(الزھد للامام احمد بن حنبل،الحدیث۴۸،ص۳۴)
؎ رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنی کسی آسمانی کتاب میں ارشاد فرمایا:''میرے عزت وجلال کی قسم! جو بندہ میرے خوف سے روئے گا میں اس کے بدلے مقدس نورسے اسے خوشی عطا کروں گا۔میرے خوف سے رونے والوں کو بشارت ہوکہ جب رحمت نازل ہوتی ہے تو سب سے پہلے انہی پرنازل ہوتی ہے۔اورمیرے گنہگار بندوں سے کہہ دو کہ''وہ میرے خوف سے آہ وبکا کرنے والوں کی محفل اختیار کریں تاکہ جب رونے والوں پر رحمت نازل ہو تو ان کو بھی رحمت پہنچے۔''
(موسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتا ب الرقۃ والبکاء، الحدیث۸/۱۸/۲۷،ج۳،ص۱۷۱تا۱۷۴)
حضرتِ سیِّدُنانَضَربن سعدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی کی آنکھ سے خشیّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے آنسوبہتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے چہرے کوجہنم پر حرام فرما دیتا ہے۔ اگر اس کے رخسارپربہہ جائے تو قیامت کے دن نہ وہ ذلیل ہو گااور نہ اس پر کوئی ظلم ہو گا۔ اور اگر کوئی غمگین شخص اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے کچھ لوگوں میں روئے تواللہ عزَّوَجَلَّ اس کے رونے کے سبب ان لوگوں پر بھی رحم فرماتاہے۔ آنسو کے علاوہ ہرعمل کا وزن کیا جائے گا اور آنسوؤں کا ایک قطرہ آگ کے سمندروں کو بجھادیتا ہے ۔''
(المرجع السابق،الحدیث۱۴،ج۳،ص۱۷۲)
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہانا مجھے ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء، بیان فضیلۃ الخوف،ج۴، ص۲0۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب دلوں کی زمین سے خوف پیدا ہو، آنسوبہہ کرخشیت کے باغیچے کوسیراب کریں تو ندامت کی کلی کھِل اُٹھتی ہے اور توبہ کا پھل نصیب ہوجاتاہے۔حضرتِ سیِّدُنا داؤدعلٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام اپنی لغزش پر دن رات روتے رہتے تھے گویاآپ علیہ السلام نے خوشی کا حُلّہ اُتارکرغم کا لباس زیبِ تن کر لیاتھا، کبوترآپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کی آواز سے خاموش ہوجاتے،دل آپ علیہ السلام کی چیخوں سے مضطرب ہوجاتے، آپ علیہ السلام کے آنسوؤں سے گھاس سیراب ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام اپنی مناجات میں عرض کرتے :''میں تیرے بندوں کے طبیبوں سے علاج کرانے کے لئے نکلا کہ وہ میرے دل کی بیماری کا علاج کریں لیکن سب نے تیری راہ بتائی۔ اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میری آنکھوں کو آنسوبہانے کی توفیق عطا فرما