Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
130 - 649
    پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کو ہر طرح کی آزمائشوں میں مبتلا فرمایایہاں تک کہ اپنے مقرب انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی آزمایا اور حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام کو جنت سے اُتارا گیا توابوالبشر ہونے کے با وجود چالیس سال تک روتے رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام حضرتِ سیِّدُنا یوسف علیہ السلام کے غم میں اس قدر روئے کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں سفید ہو گئیں اورجب دوسرے بیٹوں نے اُن کو آپ علیہ السلام سے دورکردیاتو آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا:
 اِنَّمَاۤ اَشْکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزْنِیۡۤ اِلَی اللہِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان : میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں ۔اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔(۱۳،یوسف:۸۶)(۱)

    جب بھائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام صرف حضرت سیِّدُنا یوسف علیہ السلام سے ہی زیادہ محبت کرتے ہیں تو انہوں نے آپ علیہ السلام کو گہرے کنوئیں میں ڈال دیا،
وَجَآءُوۡۤ اَبَاہُمْ عِشَآءً یَّبْکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔'' ( پ۱۲،یوسف:۱۶)

    حضرتِ سیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام اپنی لغزش پر چالیس سال تک روتے رہے،آپ علیہ السلام نے اتنا عرصہ ندامت سے اپنا سراوپرنہ اٹھایاپھر ندا دی گئی: ''اے داؤد!ہم نے تیری لغزش معاف فرما دی اور محبت دنیا میں ایک بار ملتی ہے دوبارہ نہیں ملتی۔''

    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے : '' اللہ عزَّوَجَلَّ کو کوئی شئے دوقطروں سے زیادہ پسندنہیں:(۱)۔۔۔۔۔۔ خوف ِالٰہی عَزَّوَجَلّ سے بہنے والا آنسوؤں کا قطرہ اور (۲) ۔۔۔۔۔۔اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں بہنے والا خون کا قطرہ۔''
(جامع التر مذی ،ابواب فضائل الجھاد ، باب ماجاء فی فضل المرابط ، الحدیث ۱۶۶۹،ص۱۸۲۳)
    سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: ''بروزِ قیامت ہر آنکھ روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے بچی اور وہ آنکھ جو رات بھر اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں جاگتی رہی اور وہ کہ جس سے اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے مکھی کے سر کی مثل آنسو بہا ۔''
(حلیۃ الاولیاء،صفوان بن سلیم،الحدیث۳۶۶۳،ج۳،ص۱۹0)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرتِ یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُن کا خواب حق ہے، ضرور واقع ہوگا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت ملک الموت سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کی ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا: نہیں۔ اس سے بھی آپ کو اُن کی زندگانی کا اِطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں سے فرمایا ۔''
Flag Counter