سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے خائفین کی آنکھوں کوخوفِ وعیدسے رُلایا تو ان کی آنکھوں سے چشموں کی مانند آنسوجاری ہوگئے اور اُن ہستیوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے بادل برسائے جن کے پہلُو بستروں سے جدارہتے ہیں، انہوں نے''تقویٰ'' کو اپنا فخریہ لباس بنایا، خوف نے اُن کی نیند اور اُونگھ اُڑا دی، جب لوگ خوش ہوتے ہیں تو وہ غمگین ہوتے ہیں۔ آنسوؤں نے ان کی نیند اور سکون ختم کر دیا پس وہ غمگین اور دَرد بھرے دل سے روتے ہیں، انہوں نے آہ وبُکا کو اپنی عادت اور آنسوؤں کو پانی بنا لیا۔ ان کے دن غم میں کٹتے اور راتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے میں گزرتی ہیں، وہ آہ وزاری سے سَیر نہیں ہوتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے انسان کو ہنسایااور رُلایااورزندگی اور موت عطا فرمائی اورماضی و مستقبل کاعلم سکھایا۔ انہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے عہد کیا تو اس کو وفاکرنے والا پایا ۔اس سے معاملہ کیا تو ساری زندگی نفع دینے والا پایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ربّ ِ عظیم عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا ﴿ٛ58﴾
ترجمۂ کنزالایمان :جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گرپڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔( پ16،مریم :58)(۱)(یہ آیتِ سجدہ ہے اسے پڑھنے،سننے والے پرسجدہ کرناواجب ہے)
اُن میں سے ہر ایک اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو رنجیدگی سے خالی پاتے ہیں تو روتے اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور جب اپنے گناہوں کے متعلق سوچتے ہیں توخوب گِڑگِڑاتے ہیں اور آنسوؤں سے ان کی پلکیں زخمی ہوجاتی ہیں ۔ وہ سب بادشاہِ حقیقی کی بارگاہ میں پلکوں کے بادلوں سے آنسو بہاتے اور روتے روتے ٹھوڑی کے بل گر پڑتے ہیں اور اہل صدق ووفا کے متعلق سرکار علیہ الصلٰوۃوالسلام کا یہ فرمان کہ ''اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے والی صورت بنا لو۔''(سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد،باب الحزن والبکاء،الحدیث۴۱۹۶،ص۲۷۳۲)
سنتے ہیں تورونے سے نہیں اُکتاتے ۔ اوران میں سے ہرایک اپنی لغزش پرروتاہے ۔سبھی اس کی سطوت و اقتدار سے خوف زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَہُمۡ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔ (پ۱۷، الانبیآء:۲۸)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اللہ تعالیٰ نے ان آیات (یہ اورگذشتہ آیات) میں خبر دی کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو سُن کر خضوع و خشوع اور خو ف سے روتے اور سجدے کرتے تھے۔ مسئلہ: اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک بخشوعِ قلب سننا اور رونا مستحب ہے۔''