فضائے آسمانی سے ایک فرشتہ پکارے گا : ''توُ سوال کر۔'' تو کعبہ عرض کریگا :''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!تو میرے پڑوس میں دفن مؤمنین کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔'' تو کعبہ شریف کو ایک آواز سنائی دے گی: ''میں نے تیری درخواست قبول فرما لی۔''
حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''پھر مکہ کے مُردوں کو اُٹھایا جائے گا جن کے چہرے سفید ہوں گے۔ وہ سب احرام کی حالت میں کعبہ کے گرد جمع ہو کر تلبیہ( یعنی لبیک )کہہ رہے ہوں گے۔ پھر فرشتے کہیں گے: ''اے کعبہ!اب چل۔'' تو وہ کہے گا:''میں نہیں چلوں گا یہاں تک کہ میری درخواست قبول ہوجائے۔'' توفضائے آسمانی سے ایک فرشتہ پکارے گا: ''تو مانگ،تجھے دیا جائے گا۔''تو کعبہ شریف کہے گا :''اے اللہ عزَّوَجَلَّ! تیرے گنہگار بندے جو اکٹھے ہو کر دُور دُور سے غبار آلود ہو کر میرے پاس آئے۔ انہوں نے اپنے اہل وعیال اور احباب کو چھوڑا۔ انہوں نے فرمانبرداری اور زیارت کے شوق میں نکل کر تیرے حکم کے مطابق مناسکِ حج ادا کئے۔ تو میں تجھ سے سوال کرتاہوں کہ ان کے حق میں میری شفاعت قبو ل فرما، ان کو قیامت کی گھبراہٹ سے امن میں رکھ اور انہیں میرے گرد جمع فرمادے۔''
توایک فرشتہ ندادے گا: ''ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے تیرے طواف کے بعد گناہوں کا ارتکاب کیا ہو گا اور ان پر اصرار کرکے اپنے اوپر جہنم واجب کرلی ہوگی۔ ''تو کعبہ عرض کریگا:''اے اللہ عزَّوَجَلَّ!میں تجھ سے ان گنہگاروں کے حق میں شفاعت قبول ہونے کا سوال کرتاہوں جن پر جہنم واجب ہو چکی ہے۔'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ''میں نے ان کے حق میں تیری شفاعت قبول فرمائی ۔''تو وہی فرشتہ ندا کریگا:''جس نے کعبہ کی زیارت کی تھی وہ لوگوں سے الگ ہو جائے۔'' اللہ عزَّوَجَلَّ ان سب کو کعبہ کے گرد جمع کردے گا۔ ان کے چہرے سفید ہوں گے اوروہ جہنم سے بے خوف ہو کر طواف کرتے ہوئے تلبیہ کہیں گے۔پھر فرشتہ پکارے گا:اے کعبۃ اللہ!چل توکعبہ شریف تلبیہ کہے گا: