| حکایتیں اور نصیحتیں |
تو آج وہی شخص حج کریگا جس نے اس دن جواب دیا تھا ۔ جس نے ایک مرتبہ لبیک کہا تو وہ ایک مرتبہ حج کریگا، جس نے دو مرتبہ کہاوہ دو مرتبہ اور جس نے تین مرتبہ لبیک کہا وہ تین مرتبہ حج کریگا اور جس نے اس سے بھی زیادہ بارلبیک کہا وہ اتنی ہی بار حج کریگا ۔''
(شعب الایمان للبیھقی،باب فی المناسک، حیث الکعبۃ والمسجد الحرام، الحدیث ۳۹۸۹، ج۳،ص۴۳۶،مفھومًا۔اخبار مکۃ للفاکھی،ذکر ابراھیم علیہ السلام علی المقام ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۹۷۳، ج۱، ص ۴۴۵۔فردوس الاخبار للدیلمی، باب اللام، الحدیث۵۳۴۳،ج۲،ص۲۱۷)
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ''میں حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف کررہا تھا۔ میں نے عرض کی :''میرے ماں باپ آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)پر قربان! اس گھر کی شان کیاہے ؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے علی! اللہ عزَّوَجَلَّ نے میری امت کے گناہوں کے کفارے کے لئے دنیامیں اپنا گھر بنایا ۔'' میں نے عرض کی: ''میرے ماں باپ آپ (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) پر قربان !اس حجرِ اَسودکا مقام ومرتبہ کیا ہے ؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''یہ قیمتی پتھر جنت میں تھا، اللہ عزَّوَجَلَّ نے اِسے دُنیا میں اُتارا تو اس کی روشنی سورج جیسی تھی لیکن جب سے اسے مشرکین کے (ناپاک) ہاتھ لگے اس کا رنگ تبدیل ہو گیا اوراب یہ سخت سیاہ ہو گیاہے۔''
(اخبار مکۃ للفاکھی، ذکر المقام وفضلہ، الحدیث۹۶۸،ج۱، ص۴۴۳،مختصر وبتغیرٍ)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر گھر بیت اللہ نہیں اور نہ ہی ہرپہاڑعرفات ہے، نہ ہر توشہ مکہ تک پہنچاتا ہے۔ اے وہ شخص جس نے حج فوت کر دیا۔ اس کی طرف راستہ نہ پایا۔ اپنی عمر کھیل کود میں گزار دی اور گناہوں کا بھاری بوجھ اٹھائے رکھا۔ عصیاں کے میدان میں غفلت سے اپنے دامن کو گھسیٹا ،نجات طلب کی لیکن اس تک نہ پہنچا لہٰذا تو حج میں جلدی کر اور اپنے لئے اسلام کو رہنما بنا جس کا ادراک نہ کوئی آنکھ کر سکتی ہے اورنہ ہی عقلیں اور فکریں اس کی مثال و نظیر لاسکتی ہيں۔
خانہ کعبہ شریف شفاعت فرمائے گا:
حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، تورات شریف میں ہے کہ''اللہ عزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اپنے سات لاکھ مقرَّب فرشتوں کو بھیجے گا، جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں سونے کی ایک زنجیرہوگی۔ اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ''جاؤ! اور بیت اللہ شریف کو ان زنجیروں میں باندھ کر محشرکی طرف لے آؤ۔'' فرشتے جائیں گے، ان زنجیروں سے باندھ کر کھینچیں گے اور ایک فرشتہ پکارے گا: ''اے کعبۃ اللہ!چل ۔'' توکعبہ مبارکہ کہے گا:''میں نہیں چلوں گا جب تک میرا سوال پورانہ ہو جائے۔''