| حکایتیں اور نصیحتیں |
ایمان اور یقینِ صادق کا سوال کرتا ہوں جو میرے دل میں بس جائے یہاں تک کہ میں یقین کر لوں کہ مجھے وہی تکلیف پہنچ سکتی ہے جو تو نے میرے لئے لکھ دی ہے اور اس پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں جس کا تو نے میرے بارے میں فیصلہ فرمادیا ہے۔'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی: ''اے آدم (علیہ السلام)! میں نے تیری تمام دعائیں قبول فرمائیں اور تیری اولاد میں سے جو شخص بھی دعا کریگا میں اس کے غم واَلَم اور تنگی دُور کردوں گا، اس کے دل سے فقر کاغم نکال کر اُسے بے نیاز کر دوں گا اوراُسے وہاں سے رزق دوں گا جہاں اُسے گمان بھی نہ ہو گا اور دُنیا اس کے پاس ذلیل ہو کرآئے گی اگرچہ وہ اس کی خواہش نہ رکھتاہو۔''
(اخبار مکۃ للازرقی، باب ما جاء فی الملتزم والقیام فی ظھر الکعبۃ، الحدیث۴۹۴،ج۲،ص۹۲۔ المعجم الاوسط، الحدیث۵۹۷۴، ج۴، ص۲۷۵)
زبان اورآنکھوں والا بادَل:
حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ''جب طوفانِ نوح کے بعدبیتُ المعمور جس کی بنیاد حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام نے رکھی تھی، کوچھٹے آسمان پراٹھایا گیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ و السلام کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ شریف کی جگہ آکر اس کے نشانات پر بنیاد رکھیں۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علیہ السلام وہاں تشریف لے گئے مگر وہ آپ علیہ السلام سے پوشیدہ تھااور آپ علیہ السلام کو اس کا کوئی نشان دکھائی نہ دے رہا تھاتو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ایک بادل بھیجا جولمبائی چوڑائی میں بیت اللہ شریف کی مقدارکے برابر تھا، اس کا سر،زبان اور دو آنکھیں تھیں۔ وہ بیت اللہ شریف کے مقام پر کھڑا ہو گیااورعرض کی: ''اے ابراہیم (علیہ السلام)! میری مقدار کے برابر بنیاد رکھ دیں۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے کہنے کے مطابق بنیا د رکھی پھر بادل چلا گیا ۔ جب آپ علیہ السلام اس کے بنانے سے فارغ ہوئے توطواف کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ''لوگوں میں حج کا اعلان کریں۔'' آپ علیہ السلام نے عرض کی:'' میری آواز کیسے پہنچے گی؟''تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''اے ابراہیم (علیہ السلام)!تیرا کام ہے ندا کرنا پہنچانا ہمارے ذمہ ہے ۔'' تو حضرتِ ِسیِّدُنا ابراہیم علیہ السلام نے جبل ابوقُبَیْس پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا:
''اے اللہ عزَّوَجَلَّ کے بندو! تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے گھر بنا یا اور تمہیں اس کا حج کرنے کاحکم دیاہے۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب زمین والوں کو آپ علیہ السلام کی آواز سنائی توجنّوں، انسانوں ،پتھر اور مِٹی کے ڈھیلوں،پہاڑوں اور ر یتلے میدانوں اور ہر خشک و تر نے جواب دیا۔ مشرق و مغرب والوں کو آواز پہنچائی تو ماؤں کے پیٹوں سے اورمَردوں کی پشتو ں سے سب نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا:لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ