Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
125 - 649
      حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکر ِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' جو مکہ کی گرمی پر ایک گھڑی صبر کریگا جہنم اس سے ایک سو سال کی مسافت دور ہو جائے گی۔''
(اخبار مکۃ للفاکھی،ذکر الصبر علی حر مکۃ،الحدیث۱۵۶۵/۱۵۶۶،ج۲،ص310۔311)
    حضرتِ سیِّدُنا جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''یہ گھر اسلام کا ستون ہے،جوحج یا عمرہ کرنے والااپنے گھر سے بیت اللہ شریف کے ارادے سے نکلے، اگر اس کی روح قبض ہوجائے تو اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اُسے جنت میں داخل فرمادے، اوراگر وہ (حج کرکے)پلٹا تو اَجروغنیمت کے ساتھ لوٹے گا۔''
 (المعجم الاوسط،الحدیث۹0۳۳،ج۶،ص۳۵۲۔فردوس الاخبار للدیلمی، باب الھاء ،الحدیث۷۲0۸، ج۲،ص۳۸۲)
    طواف ِکعبہ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
 (1) وَلْیَطَّوَّفُوۡا بِالْبَیۡتِ الْعَتِیۡقِ ﴿29﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور اس آزاد گھر کا طواف کریں ۔( پ 17،الحج :29)
عتیق کہنے کی وجہ:
    بیت اللہ شریف کو عتیق اس لئے کہتے ہیں کہ ''اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسے زمین سے دوہزارسال پہلے پیدا فرمایا اور اس کو ظالم اور جابرلوگوں کے قبضے سے آزاد رکھااور اس پر کسی ظالم وجابرکو مسلّط نہ کیابلکہ جس نے بھی بُراارادہ کیا وہ ہلاک ہو گیا ۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر واسطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ اس کو عتیق کہنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جس نے بھی اس کا طواف کیا وہ جہنم سے آزاد ہو گیا ۔'' 

    امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی عتیق کہا جاتا ہے۔پس جو شخص نماز میں قبلہ شریف کی طرف رُخ نہ کرے اس کی نماز قبول نہیں اور جو امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولایت کی گواہی نہ دے اس کی زکوٰۃ قبول نہیں۔

    حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن سلیمان علیہ رحمۃ الرحمن بیان فرماتے ہیں کہ''جب حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام زمین پر جلوہ فرما ہوئے توآپ علیہ السلام نے بَیْتُ اللہ شریف کے سات چکرلگائے، پھر دو رکعت نماز پڑھ کرملتزَم کے پاس آئے اور عرض کی: ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ! تو میرے ظاہر وباطن کوجانتا ہے، میری معذرت قبول فرما لے اور تو جانتاہے جو کچھ میرے دل میں ہے پس میرے گناہوں کو بخش دے اور تومیری حاجت بھی جانتا ہے لہٰذاوہ بھی پوری فرما دے۔ اے اللہ عزَّوَجَلَّ!میں تجھ سے ایسے
Flag Counter