Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
123 - 649
    حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے پچاس بار بیت اللہ شریف کا طواف کیاتو وہ گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پید اہواتھا۔''
    (جامع التر مذی ،ابواب الحج ، باب ماجا ء فی فضل الطواف ، الحدیث ۸۶۶،ص ۱۷۳۳)
    منقول ہے کہ ''اللہ عزَّوَجَلَّ نے بیتُ اللہ سے وعدہ فرمایا کہ ہر سال چھ لاکھ افراد اس کا حج کریں گے، اگر کم ہوئے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے ان کی کمی پوری فرمادے گا ۔اور بروزِ قیامت کعبہ مشرَّفہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَتَعْظِیْماً پہلی رات کی دُلہن کی طرح اُٹھایا جائے گا تو جن لوگوں نے اِس کا حج کیاوہ اِس کے پردوں کے ساتھ لٹکے ہوں گے اوراِس کے گرد چکر لگارہے ہوں گے یہاں تک کہ یہ جنت میں داخل ہوگا تووہ بھی اس کے ساتھ داخل ہو جائیں گے ۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب اسرار الحج،الباب الاول،الفصل الاول،فضیلۃ البیت ومکۃ المشرفۃ،ج۱،ص۳۲۴ )
    حدیثِ پاک میں ہے کہ'' حجرِاسود ایک جنَّتی پتھر ہے۔ اسے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔اس کی دو آنکھیں اور زبان ہوگی جس سے وہ کلام کریگا اورہر اس شخص کی گواہی دے گا جس نے اسے حق وصداقت کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کواکثربوسہ دیا کرتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار اسے بوسہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: ''میں جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے،نہ نقصان دیتاہے نہ نفع،اگر میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوتجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی:''اے امیرالمؤمنین!یہ نفع بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔'' تو حضرتِ سیِّدُنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''اے ابو الحسن! یہاں آنسو بہائے جاتے ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔''

     امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْم نے عرض کی:''اے امیرالمؤمنین !یہ نفع ونقصان اللہ عزَّوَجَلَّ کے اذن سے دیتا ہے۔'' تو حضرتِ سیِّدُنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:''وہ کیسے؟''توامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْم نے عرض کی : ''وہ یوں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے جب حضرتِ سیِّدُناآدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی اولادسے عہد لیا تو اس عہد نامہ کی ایک تحریر لکھ کراس پتھر کو کِھلا دی۔اب یہ مومنوں کے لئے وفائے عہدکی گواہی دے گا اور کافروں کے خلاف انکار کی۔'' حجرِ اسود کو بوسہ دیتے وقت لوگ جو کلمات پڑھتے ہیں،ان کا یہی معنی ہے(اور وہ یہ ہیں
: ''اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَتَصْدِیقًا بِکِتَابِکَ وَوَفَآءً بِعَھْدِکَ وَاتِّبَاعًا لِّسُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍصلَّی اللہ علیہ وسلَّم
یعنی اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میں تجھ پر ایمان لاتے ہوئے ،تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے، تیرے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور تیرے نبی حضرتِ سیِّدُنا محمد
Flag Counter