| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام حَجَرِ اَسْوَد کو اُٹھاکرجَبَلِ ابوقُبَیْس میں چھوڑآئے تاکہ غرق ہونے سے محفوظ ہو جائے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے زمانہ تک بیت اللہ کی جگہ خالی رہی۔جب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ہاں حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام اور حضرتِ سیِّدُنا اسحاق علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام پیدا ہوئے تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کو بیت اللہ شریف کی بنیادرکھنے کا حکم دیا ۔آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی : ''یا اللہ عزَّوَجَلَّ! مجھے اس کی نشانی بیان فرما دے۔''تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے بیت اللہ شریف کی مقدار ایک بادَل بھیجا جو آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ ساتھ چلتا رہا یہا ں تک کہ آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام مکّہ مکرمہ
زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا
پہنچے تو بیت اللہ شریف کے مقام پر وہ بادل رُک گیا۔آپ کوپکاراگیا:''اے ابراہیم (علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام)! اس بادل کے سائے پر بنیاد رکھو،نہ کم کرنا نہ زیادہ۔'' حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام کو بتاتے جاتے اور وہ عمارت بناتے جاتے۔ حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام آپ علیہ الصلٰوۃو السلام کوپتھر اٹھا اٹھا کر پکڑاتے۔''
اللہ عزَّوَجَلَّ کے مذکورہ فرمان میں''اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ''
سے مرادواضح آیا ت ہيں جواجر و ثواب کے اضافے پر دلالت کرتی ہیں۔اور
''وَمَن دَخَلَہُ کَانَ اٰمِنا''
سے مراد یہ ہے کہ وہ جہنم سے امن میں ہو گیا،بعض نے کہا کہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہو گیا، بعض نے کہا کہ شرک سے محفوظ ہوگیا ۔ اور ''اِسْتِطَاعَت'' سے مرادیہ ہے کہ زادِ راہ اور سفر پر قادر ہو اور بدن صحیح ہونیز راستہ بھی پُر امن ہو ۔ اور''وَمَنْ کَفَرَ '' کا مطلب یہ ہے کہ جو حج کرنے کو نیکی اور نہ کرنے کو گناہ نہ سمجھے۔
اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب ِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:''جس نے حج کیا اور فحش کلامی نہ کی اور فسق نہ کیا تو وہ گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پید اہواتھا۔''( صحیح البخاری ،کتاب الحج ، باب قول اللہ'' فلا رفث''الحدیث ۱۸۱۹، ص ۱۴۲)
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبئپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جو حرمین شریفین( یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) میں سے کسی حرم میں مرے اُسے قیامت کے دن اَمن والوں میں سے اٹھایا جائے گا۔''
(شعب الایمان للبیھقی،باب فی المناسک،فضل الحج والعمرۃ،الحدیث۴۱۵۸،ج۳،ص۴۹0)
حدیث ِ پاک میں ہے کہ ''بیتُ اللہ شریف کا طواف کثرت سے کروکیونکہ تم بروزِ قیامت اپنے نامۂ اعمال میں اسے سب سے افضل اور سب سے قابلِ رشک عمل پاؤ گے۔''اورایک روایت میں ہے کہ''جو بارش میں طواف کے سات چکر لگائے اس کے گذشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب اسرار الحج،الفصل الاول،فی فضائل الحج، ج۱، ص۳۲۳)