Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
121 - 649
    ترجمۂ کنزالایمان :بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکّہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما۔ اس میں کھلی نشانیا ں ہیں،ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اِ س میں آئے امان میں ہو اوراللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تواللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے۔(پ4،اٰل عمران: 96۔97) (۱)

    حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ''اس آیتِ مبارکہ میں''بَيْْت''سے مراد کعبۃ اللہ شریف ہے۔ جس کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے بیتُ المعمور کی سیدھ میں زمین میں رکھا۔جیسا کہ مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ و السلام کو جنت سے (زمین پر) اُتارا گیا اور آپ علیہ السلام نے حجِ بیت اللہ فرمایاپھرفرشتوں سے ملاقات ہوئی توانہوں نے عرض کی: ''اے آدم علیہ السلام!آپ کا حج قبول ہوگیا۔اورہم نے آپ سے دوہزار سال پہلے بیت اللہ شریف کا حج کیا تھا۔ آپ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے ان سے دریافت فرمایا: ''تم حج میں کیا پڑھتے تھے ؟'' انہوں نے عرض کی : ''ہم
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر
پڑھا کرتے تھے۔''پھر حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام بھی طواف میں یہی پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے: ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میری اولاد میں اس گھر کو تعمیر کرنے والا بنا۔تواللہ عزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی کہ''میں اپنا گھر تیری اولاد میں سے اپنے خلیل (حضرت) ابراہیم (علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام)سے بنواؤں گا۔میں اس کے ہاتھوں اس کی تعمیر کا فیصلہ کر چکا ہوں۔'' جب حضرتِ سیِّدُنا نوح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے عہدمیں طوفان آیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بیت اللہ شریف کو چوتھے آسمان پر اٹھا لیا، وہ سبز زمرد کا تھا اور اس میں جنت کے چراغوں میں سے ایک چراغ تھا ۔
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''شانِ نزول: یہود نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ ہے، کعبہ سے افضل اور اس سے پہلا ہے۔ انبیاء کا مقامِ ہجرت و قبلۂ عبادت ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ کعبہ افضل ہے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ سب سے پہلا مکان جس کو اللہ تعالیٰ نے طاعت و عبادت کے لئے مقرَّر کیا، نماز کا قبلہ، حج اور طواف کا موضِع بنایا جس میں نیکیوں کے ثواب زیادہ ہوتے ہیں، وہ کعبہ معظمہ ہے جو شہرِ مکہ معظمہ میں واقع ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ کعبۂ معظمہ بیت المقدس سے چالیس سال قبل بنایا گیا۔ (اس میں ایسی نشانیاں ہیں )جو اس کی حرمت و فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں کہ پرند کعبہ شریف کے اوپر نہیں بیٹھتے اور اس کے اوپر سے پرواز نہیں کرتے بلکہ پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں تو اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں اور جو پرند بیمار ہوجاتے ہیں وہ اپنا علاج یہی کرتے ہیں کہ ہوائے کعبہ میں ہو کر گزر جائیں، اسی سے انہیں شفا ہوتی ہے۔ اور وُحوش ایک دوسرے کو حرم میں ایذا نہیں دیتے حتیّٰ کہ کتّے اس سرزمین میں ہَرَن پر نہیں دوڑتے اور وہاں شکار نہیں کرتے اور لوگوں کے دل کعبہ معظمہ کی طرف کھچتے ہیں اور اس کی طرف نظر کرنے سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور ہر شب ِجمعہ کو ارواحِ اَولیأ اس کے گرد حاضر ہوتی ہیں اور جو کوئی اس کی بے حرمتی کا قصد کرتا ہے برباد ہوجاتا ہے۔ انہیں آیات میں سے مقامِ ابراہیم وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کا آیت میں بیان فرمایا گیا ۔ اور مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوتے تھے اور اس میں آ پ کے قدمِ مبارک کے نشان تھے جو باوجود طویل زمانہ گزرنے اور بکثرت ہاتھوں سے مَس ہونے کے ابھی تک کچھ باقی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جنايت کرکے حرم میں داخل ہو تو وہاں نہ اس کو قتل کیاجائے، نہ اس پر حد قائم کی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کو ہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہ وہاں سے باہر آئے۔''
Flag Counter