Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
120 - 649
بیان9:             خانۂ کعبہ کی شانیں
ا للہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کوان لوگوں میں شامل فرما دے جو اس سال حجِ بیتُ اللہ اور

زیارتِ روضۂ اقدَس علٰی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی سعادت سے بہرہ مند ہوں۔(آمین)
حمد ِباری تعالیٰ:
    سب تعریفیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے عقلوں کی اپنی توحید کی طرف رہنمائی فرمائی اور انہیں ہدایت دی اور اپنی توحید کو سلامتی کے سفینے میں نجات کا سبب بنایا پس اللہ تعالیٰ کو یکتا ماننے والاکہتا ہے: '' اس (سلامتی کی) کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ عزَّوَجَلَّ کے نام سے ہے۔''پس وہ اپنے محبوب تک پہنچ گئی اور مقصود کو پانے میں کامیاب ہوگئی اور اس ذاتِ الٰہی عَزَّوَّجَل کے مشاہدوں کے سمندر میں تیرنے لگی پس جب اس ذات نے اسے ندا دی تو وہ اس کی لذت میں منہمک ہو گئی ۔

    پاک ہے وہ ذات جس نے کعبہ مشرَّفہ کوشان وشوکت عطا فرمائی اور اسے اپنی عظمت اور جلال کے ساتھ خاص کیا اور اسے داخل ہونے والوں کے لئے امن والا گھر بنا دیا۔اوریہ وہی مبارک گھر ہے جس سے اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہجرت فرمائی مگرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے چھوڑا،نہ اس سے تعلق توڑا اور نہ ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دل اس سے ہٹ کردوسرے قبلے کی طرف متوجہ ہوا یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر یہ آیاتِ مبارکہ نازل فرمائیں جنہیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سنا اور تلاوت فرمایا :
قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ ۚ فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰىہَا ۪
ترجمۂ کنزالایمان :ہم دیکھ رہے ہیں باربارتمہارا آسمان کی طرف منہ کرناتو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔(پ۲،البقرۃ:۱۴۴)(۱)

     اور اللہ عزَّوَجَلَّ بیتُ اللہ شریف کی عظمت و شان یوں بیان فرماتا ہے:
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ96﴾فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿97﴾
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' شانِ نزول :سیِّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو کعبہ کا قبلہ بنایا جانا پسند خاطر تھا اور حضور اس اُمید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نماز ہی میں کعبہ کی طرف پِھر گئے، مسلمانوں نے بھی آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا۔ مسئلہ :اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی رضا منظور ہے اور آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم ہی کی خاطر کعبہ کو قبلہ بنایا گیا۔''
Flag Counter