| حکایتیں اور نصیحتیں |
عَزَّوَجَلَّ نے اس رات کیافیصلہ فرمایا ہے؟''اس نے کہا:''نہیں '' تو پہلے نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان چھ مقبولین میں سے ہر ایک کی وجہ سے ایک ایک لاکھ کو بخش دیا اور تمام کا حج قبول فرمالیا ہے ۔پھر میں بیدار ہوگیا اور مجھے اتنی خوشی تھی کہ جس کو اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا،کیونکہ تمام حجاج کا حج قبول فرما لیاگیا اورجودو کرم سے نوازا گیااور کسی کو بدبخت ومحروم نہ کیا گیا۔
ایک محبوب بندی کے طفیل سب کاحج قبول ہو گیا:
حضرتِ سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے ننگے پاؤں پیدل بیت اللہ شریف کا حج کیا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ان کو جو بھی کھانا عطا فرماتا اس کو ایثار کر دیتیں۔ کعبہ مشرَّفہ پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ہوش میں آنے کے بعد اپنے رخسار کو بیت اللہ شریف پر رکھ کرعرض کی: ''یہ تیرے بندوں کی پناہ گاہ ہے اور تو ان سے محبت کرتا ہے اب تو آنکھوں میں آنسو ختم ہوگئے ہیں۔'' پھرطواف کیا ، سعی کرنے کے بعدجب وقوفِ عرفہ کا ارادہ کیا تو حائضہ ہو گئیں۔ روتے ہوئے عرض گزار ہوئیں:''اے میرے مالک و مولیٰ عزَّوَجَلَّ ! اگر یہ معاملہ تیرے غیر کی طرف سے ہوتاتو میں ضرور تیری بارگاہ میں شکایت کرتی اب جبکہ یہ سب کچھ تیری مشیئت سے ہوا ہے تو اب کیسے شکایت کرسکتی ہوں ؟'' پس انہوں نے ہاتف ِ غیبی کو یہ کہتے سنا: ''اے رابعہ! ہم نے تیرے سبب تمام حاجیوں کا حج قبو ل کرلیا اور تیری ا س کمی کی وجہ سے ان کے نقائص بھی پورے کر دیئے ۔''
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَاوَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ