Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
118 - 649
میں تھا کہ میں نے ایک غیبی آواز سُنی: ''اے علی بن مُوَفَّق ْ!ہم نے تیری بات سن لی ہے ۔کیاتو اپنے گھر میں اسی کو نہیں بلاتا جس سے تو محبت کرتا ہے ۔

    منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا بکر اورحضرت سیِّدُنا مطرّف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما نے عرفات میں وقوف کیا۔جب حاجیوں نے گریہ وزاری اور چیخ وپکار شروع کی توحضرتِ سیِّدُنا بکررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رو رو کر کہنے لگے: '' یہ کتنا بڑا مرتبہ ہے، اے کاش! میں ان لوگوں میں سے ہوتا۔''اور حضرتِ سیِّدُنا مطرف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس حال میں عرض کی کہ آپ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو چکا تھا: ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ! میری (نافرمانیوں کی) وجہ سے ان کو مَردودنہ کرنا۔
وقوف ِ عرفات کرنے والوں کی مغفرت ہو گئی:
    حضرتِ سیِّدُنا محمدبن منکدر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے تینتیس (33)حج کئے جب آخری حج کیا تو عرفات کے مقام پر عرض کی:''یااللہ عزَّوَجَلَّ!توجانتاہے کہ میں نے عرفات میں تینتیس(33) بار وقوف کیا۔ایک مرتبہ اپنی طرف سے ،ایک مرتبہ اپنے باپ کی طرف سے اور ایک مرتبہ اپنی ماں کی طرف سے،یا رب عَزَّوَجَلَّ!میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے باقی تیس اس شخص کو ہبہ کردئیے جو یہاں عرفات میں ٹھہرا لیکن اس کا وقوف ِ عرفات قبول نہ کیا گیا۔''جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عرفات سے مزدلفہ پہنچے توخواب میں ندا دی گئی: ''اے ابن منکدر! کیاتو اس پر کرَم کرتاہے جس نے کرم کو پیدا کیا ؟کیا تو اس پر سخاوت کرتاہے جس نے سخاوت کو پیدا کیا؟حالانکہ اللہ عزَّوَجَلَّ توتجھ سے فرماتا ہے:''مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں نے وقوفِ عرفات کرنے والوں کو عرفات پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے ہی بخش دیاتھا۔''
چھ کے صدقے چھ لاکھ کا حج قبول کر لیا گیا :
    حضرتِ سیِّدُنا علی بن مُوَفَّقْ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد میں مسجدخیف ومنیٰ کے درمیان سو گیا۔ میں نے آسمان سے اُترتے دو فرشتے دیکھے، ایک نے دوسرے سے کہا: ''اے اللہ کے بندے!کیاتو جانتاہے کہ اس سال کتنے لوگوں نے بیت اللہ شریف کا حج کیا؟ تواس نے کہا: ''نہیں ۔'' پھرپہلے نے خود ہی بتایا: ''چھ لاکھ افراد نے۔'' پھر اس نے پوچھا: ''کیا تو جانتاہے کہ کتنے افراد کاحج قبول ہوا؟'' اس نے جواب دیا: ''نہیں۔'' تو اس نے بتایا کہ اس بار صرف چھ افراد کا حج قبول ہوا ہے۔پھر وہ دونوں فضا میں پروازکرگئے۔ میں بیدار ہوا اس حال میں کہ میں ڈر رہاتھا۔میں نے کہا:''ہائے افسوس! میں ان چھ میں سے کہاں ہوں گا؟''جب میں نے عرفات میں وقوف کیا اور مزدلفہ میں رات گزاری تو انہی دو نوں فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حسب ِ عادت آسمان سے نازل ہوئے۔ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور کہا:''اے اللہ کے بندے!کیا تو جانتا ہے کہ تیرے رب
Flag Counter