Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
117 - 649
    مِنٰی میں سرمنڈوانے میں ایسی حکمت ہے جس سے بندے کی تمام اُمیدیں پوری ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بیداری اور نصیحت ہے جسے صرف عالم ہی سمجھ سکتاہے،کیونکہ حاجی جب عر فہ میں ٹھہرتا ہے ،مشعرِحرام کے پاس اللہ عزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا، مِنٰی میں قربانی کر کے حلق کرواتا اور اپنے بدن کو میل کچیل اور گناہوں سے پاک و صاف کرتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے ثواب لکھ دیتا، درجے بڑھا دیتا اور جہنم سے پناہ دے دیتاہے۔اور بروزِ قیامت اس کے ہر بال کے عوض ایک نوربنائے گا اوراسے امن کا پروانہ عطا فرمائے گا۔ جیساکہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
(4) مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ
ترجمۂ  کنزالایمان :اپنے سروں کے بال منڈاتے یا ترشواتے بے خوف۔ (پ26، الفتح: 27)

     طواف میں کئی حکمتیں اور لطیف اشارے ہیں، بیت اللہ شریف کا طواف کرنے والا گڑگڑاتے اوردعا کرتے وقت زبانِ حال سے کہتا ہے: ''اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!توہی مقصودہے، توہی مرتبہ کمال تک پہنچانے والا معبود ِحقیقی ہے۔ میں تمام لوگوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضرہوا، تیرے گھر کا طواف کیا اور تیری رحمت کے دروازے پر جود وکرم کی امید لئے کھڑا ہوں اور تو خود اپنے خلیل حضرتِ سیدنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کو اپنی لاریب کتاب میں فرما چکاہے:
(5) وَّ طَہِّرْ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الْقَآئِمِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿26﴾
ترجمۂ  کنزالایمان :اور میرا گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لیے ۔(پ 17،الحج:26)

    وقوفِ عرفات میں حکمت اور انوکھے معانی ہیں، بلاشبہ اس میں بندے کے لئے تنبیہ ہے اور یہ کہ بندے بروزِ قیامت اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اوربرہنہ سر حسرت و ندامت کے قدموں پر کھڑے ہوں گے، گریہ و زاری کرتے ہوں گے اور اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کرتے ہوں گے جس طرح ایک ذلیل غلام دعاکرتاہے۔

    سبحان اللہ عَزَّوَجَلَّ !ان لوگوں کو دیکھوجنہیں ان کے مولاعَزَّوَجَلَّ نے اپنے گھر کی طرف بلایا تو انہوں نے وجدو شوق کے عالم میں اس کی دعوت پرلبیک کہا اور تصدیق کے قدموں پر اس کی طرف پیدل چل پڑے، اور ہر دُبلی اُونٹنی پر دور دور سے حاضر ہوگئے ۔ 

    حضرتِ سیِّدُنا علی بن مُوَفَّق ْرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بیت اللہ کا حج کیا کعبہ مشرفہ کے گرد سات چکر لگائے ، حجرِ اسود کو بوسہ دیا، دو رکعت نماز پڑھی، کعبہ کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی اور روتے ہوئے عرض کی: ''میں نے اس بیت اللہ کے کتنے چکر لگائے لیکن معلوم نہیں کہ قبول ہوئے یا نہیں۔''پھر مجھ پر ہلکی سی نیند غا لب آگئی۔ میں سونے او رجاگنے کی درمیانی حالت
Flag Counter