| حکایتیں اور نصیحتیں |
ترجمۂ کنزالایمان :اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔(پ 7،الانعام:94)
احرام کے وقت (یعنی باندھنے سے پہلے) غسل کرنے کی حکمت بالکل ظاہراور واضح ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ چاہتاہے کہ حجاج کو ملائکہ پر ظاہر کرے تاکہ ان کے سبب فخر کرے، لہٰذا حجاج ملائکہ کرام کے سامنے گناہوں اور میل کچیل سے پاک و صاف کرکے پیش کئے جاتے ہیں۔ اس میں دوسری حکمت یہ ہے کہ حجاج انبیاء کرام علیہم السلام کے قدموں کی جگہ اپنے قدم رکھتے ہیں تو اس سے پہلے غسل کر لیتے ہیں تاکہ ان آثار کی برکات حاصل کرلیں۔ جیسا کہ،
اصدق الصادقین(یعنی سب سے زیادہ سچا) رب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(3) اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿222﴾
ترجمۂ کنزالایمان :بے شک اللہ پسند رکھتاہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتاہے ستھروں کو ۔ (پ2،البقرۃ:222)
تلبیہ کہنے میں حکمت:
تلبیہ کہنے میں حکمت یہ ہے کہ ایک انسان کو جب کوئی معزز انسان بلاتاہے تووہ اس کو لبیک اور اچھے کلام سے جواب دیتا ہے۔ لہٰذا اس شخص کاجواب کیا ہونا چاہے جس کو خود مَلِکُ العلاَّم عَزَّوَجَلَّ پکا رے اوراسے اپنی جانب بلائے تاکہ اس کے گناہ اور برائیاں مٹا دے۔جب بندہ لبیک کہتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ فرماتاہے: ''ہاں! میں تیرے قریب ہوں اور تجھ پر تجلِّی فرمانے والا ہوں،پس تو جو چاہتا ہے ما نگ لے، میں تیری شَہ رَگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔
قیامِ عرفات میں حکمت:
مزدلفہ سے کنکریاں لینے اور عرفہ میں ٹھہرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس میں صاحب ِ علم ومعرفت کے لئے پوشیدہ باتیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا بندہ عرض کرتا ہے : میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے گناہوں اور خطاؤں کی کنکریاں اُٹھا ئیں اور تیرے حکم پر عمل کرتے ہوئے جمروں کو کنکریاں ماریں۔ بے شک تو کرم وبخشش والا ہے۔
مشعرِحرام کے پاس ذکر کی حکمت اور اجر ِ عظیم کے متعلق گویا اللہ عزَّوَجَلَّ فرما رہاہے: ''تم میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا، جومجھے اکیلا یاد کرے میں بھی اسے اکیلا یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی اجتماع میں یاد کرے تومیں اُسے اس سے بہتر اجتماع میں یاد کرتا ہوں۔ پس جب تم مشعرِ حرام کے پاس مجھے یاد کرتے ہو تو میں تمہیں معزز فرشتوں میں یاد کرتا ہوں اور تمہارے لئے انتقام کے بدلے امان کی مہرلگا دیتا ہوں۔''