Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
115 - 649
نیکیاں کمانے اور گناہ دھونے کا نسخہ:
    منقول ہے کہ جو اچھی طرح وضو کرے پھررُکنِ یَمانی کے پاس آئے اور بوسہ دے کر کہے:
 ''بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
تورحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔اورجب وہ بیت اللہ شریف کاطواف کرتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے لئے ہرقدم کے عوض سترہزارنیکیاں لکھتا اور سترہزارگناہ مٹا دیتاہے۔
(التر غیب والترھیب،کتاب الحج ،باب التر غیب فی الطواف ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث ۱۷۷۳،ج۲،ص۹۲)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کئے گئے فوائد و منافع کو غنیمت جانو۔ جس نے محنت و کوشش کی اس نے پالیا۔بیدا ر شخص سونے والے کی طرح نہیں اور ان فضائل وفوائد کوپانے کے لئے شیر کی طرح چوکنا ہونا ضروری ہے۔جس نے ذکر کا چراغ روشن کیا اس کے سامنے راستے کے نشانات ظاہر ہو گئے اورجو شوق کے جنگل میں پردیسی بن گیااس کے لئے مکانات ظاہر ہوگئے ۔
افعالِ حج کی حکمتیں:
    حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے افعالِ حج کی حکمتوں اور مناسکِ حج کے باریک معانی کے متعلق پوچھا گیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''افعالِ حج اور لوازمِ حج میں سے ہر ایک میں حکمتِ بالغہ،نعمتِ کاملہ اور کئی راز ہیں جن کی تعریف کرنے سے ہر زبان عاجز ہے ۔

    احرام کے وقت(سلا ہوا ) لباس نہ پہننے کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں کی عادت ہے کہ جب مخلوق کے پاس جاتے ہیں تو عمدہ اورفخریہ لباس زیب ِ تن کرلیتے ہیں گویا اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ''میری بارگاہ میں حاضری کا ارادہ مخلوق کے پاس جانے کے ارادے کے خلاف ہو تاکہ میں ان کے لئے اجر وثوا ب بڑھا دوں اور اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ بندہ احرام کے وقت کپڑوں کی کمی سے موت کے وقت دنیا سے رُخصتی کی حالت کو یاد کرے جیسا کہ پہلے دن تھاجب ماں کے پیٹ سے برہنہ پیدا ہوا تھا۔ اور اس حالت میں حساب کے دن برہنہ کھڑا ہو نے سے مشابہت بھی ہے(اور یہ کوئی ظلم نہیں) چنانچہ،

     اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(1) اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ
ترجمۂ  کنزالایمان :اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا ۔( پ 5 ، النساء: 40)

    اور محشر کے دن اٹھنے کے بارے ميں ارشاد ربّانی ہے:
Flag Counter