| حکایتیں اور نصیحتیں |
ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اہلِ عرفات پر خاص تجلِّی فرماتااور ارشاد فرماتا ہے :''میرے بندے دور دور سے پراگندہ سر اور غبار آلود میری بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں۔''پس اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے فرشتوں کے سامنے ان پر فخر فرماتا اور ارشاد فرماتاہے: ''اگرچہ تمہارے گناہ ریت کے ذروں، آسمان کے ستاروں، سمندر اور بارش کے قطروں کے برابر بھی ہوں تب بھی میں انہیں بخش دوں گا۔''اور رمئ جمارتیرے رب عَزَّوَجَلَّ کے ہاں تیرے لئے ذخیرہ ہے جس کی تجھے سب سے زیادہ بروزِ قیامت حاجت ہوگی۔ سر کاحلق کروانے میں ہر بال کے عوض قیامت کے دن نور ہو گا۔اور اس کے بعد تو طواف ِ صدر (یعنی طواف زیارت جو عرفات سے واپسی کے بعد کیا جاتاہے) اس حال میں کریگا کہ تجھ پر کوئی گناہ باقی نہ ہوگااورایک فرشتہ آکر اپنا ہاتھ تیرے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا پھر کہے گا: ''اللہ عزَّوَجَلَّ نے تیرے گذشتہ گناہوں کو بخش دیا ہے پس آئندہ دنوں میں اچھے اعمال کراور واپس لوٹ جا کیونکہ تجھے بھی بخش دیا گیااوراسے بھی بخش دیاجائے گا جس کی تو شفاعت کریگا۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث ۵۶۶ ۱۳، ج۱۲،ص۳۲۵۔الترغیب والترھیب،کتاب الحج،باب الترغیب فی الحج و العمرۃ، الحدیث ۱۷۱۷، ج۲، ص۷۸۔مجمع الزوائد،کتاب الحج،باب فضل الحج، الحدیث ۵۶۵0، ج۳، ص ۱ ۶0)
حج کے دوحروف سے مراد:
حضرتِ سیِّدُنا شبلی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حج کے دو حروف ہیں: پہلا حاءاور دوسرا جیم۔حاء سے مراد حِلم اور جیم سے مراد جُرم ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ گویابندہ کہتاہے : ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !میں تیرے حلم اور تیری رحمت کی امید لے کر تیری بارگاہ میں اپنے جرم کے ساتھ حاضر ہوں اگر توبھی میرے جرم نہ بخشے گا تو کون بخشے گا؟''
میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر مسافر حاجی نہیں، ہر پہاڑ کا نام عرفات نہیں، ہر بیت کا نام بیت اللہ نہیں اور نہ ہی ہر زادِ راہ منزل تک پہنچانے والا ہے۔ محبوبانِ بارگاہ پختہ اراد ے کی رات میں چلے اور تم سوئے رہے۔ انہوں نے اپنے معاملات میں نفع پایامگر تم نے کچھ حاصل نہ کیا۔ اگر تم اس کی فکر کرتے جو تم نے ضائع کردیا تو ضرور نادم ہوتے۔ اے لوگوں سے پیچھے رہ جانے والو! اگر تم نے اپنے بھائیوں کو پا لینے کی تیاری نہ کی تواپنی محرومی اور بدبختی پر ميرے ساتھ مل کرآنسو بہاؤ۔کن لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی:
منقول ہے کہ ''تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی:(۱)۔۔۔۔۔۔ روزہ دار یہاں تک کہ افطار کرے
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الصیام،باب فی الصائم لا ترد دعوتہ ، الحدیث۱۷۵۲،ص۲۵۸۱)
(۲)۔۔۔۔۔۔ مریض یہاں تک کہ تندرست ہوجائے اور (۳) ۔۔۔۔۔۔حاجی یہاں تک کہ واپس آجائے۔''
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الرجاء من اللہ،الحدیث۱۱۲۵،ج۲،ص۴۶)