یہی حدیث حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ ایک انصاری حضور نبئ کریم، ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں کچھ پوچھنے کے لئے حاضرہوا ،اسی اثناء میں ایک ثقفی بھی اس غرض سے حاضر ہوا، رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اے ثقفی بھائی !انصاری تجھ سے سبقت لے گیاہے لہٰذاتم بیٹھ جاؤ،ہم پہلے انصاری کی حاجت سے ابتداء کريں گے۔''اس ثقفی کا چہرہ متغیر ہوگیاتو انصاری نے کھڑے ہو کر عرض کی : ''یا رسول اللہ عزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پہلے اس ثقفی کی حاجت پوچھ لیجئے کیونکہ میں اس کے چہرے کو بدلتا ہوا دیکھ رہاہوں، مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے متعلق ایسی بات نہ کہہ دے جو مجھے ناگوار گزرے۔''سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار بازنِ پروَردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس انصاری کے لئے بھلائی کی دعا فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: ''اے ثقفی بھائی! تم سوال کرو جو چاہو اور اگر چاہو تو میں تمہارا سوال بتاکر اس کا جواب دوں۔'' اس نے عرض کی:''مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خود ہی ارشاد فرما دیں۔''چنانچہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم یہ پوچھنے آئے ہو کہ تم کس ماہ روزے رکھو ؟ کس رات قیام کرو ؟ رکوع کس طرح کرو ؟ اور سجدے میں تمہاری حالت کیسی ہو؟''اس نے عرض کی: ''اس ذات کی قسم جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں انہی چیزوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں ۔''توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: ''ہر مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھو ۔رات کے پہلے اور تیسرے حصے میں آرام اور دوسرے حصے میں قیام کرو اور اگر دوسرے سے آخر رات تک تم بیدار ر ہوتوبھی نماز پڑھ سکتے ہو،۔رکوع کے وقت ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر انگلیاں کشادہ رکھو۔ سجدے کے وقت پیشانی کو زمین پر جماکر رکھو اور ٹھونگیں نہ مارو۔''
پھرارشاد فرمایا:''اے انصاری! اب تم سوال کرو اور اگر چاہوتومیں خود تمہارا سوال بتاکرجواب دوں۔'' تو اس نے بھی عرض کی: ''یا رسول اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خود ہی بتا دیجئے جس طرح میرے رفیق کو بتایا ہے، مجھے بھی یہی پسند ہے۔''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''تم گھرسے مسجد حرام کے ارادے سے نکلنے کا اجرپوچھنے آئے ہو اور وقوفِ عرفہ، رمئ جمار، سر منڈوانے اور طواف وغیرہ کا اجروثواب پوچھنا چاہتے ہو۔''انصاری صحابی نے بھی اسی طرح عرض کی: ''اس ذات کی قسم جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں انہی چیزوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔''پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا : ''تمہارے مسجد ِ حرام کے لئے گھر سے نکلنے پر ہر قدم پر ایک حسنہ(نیکی) لکھی جائے گی ،ایک گناہ مٹا دیا جائے گا اور ایک درجہ بلند کر دیاجائے گا اور تیرا طواف کی دو رکعتیں پڑھنا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے،اور صفاومروہ کے درمیان سعی ستر غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور تیرا عرفات میں ٹھہرنے کی فضیلت یہ