Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
112 - 649
اس انصاری نے عرض کی:''یہ شخص مسافرہے اور مسافر زیادہ حق دار ہے۔ آپ اسی سے ابتداکیجئے۔'' آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ثقفی کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ''اگر تم چاہو تو میں ہی تمہیں بتا دوں کہ کیا پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو توتمہی سوال کرو میں جواب دیتا ہوں۔''اُس نے عرض کی: ''یارسول اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں جوپوچھنے آیا ہوں آپ خود ہی فرما دیجئے کیونکہ یہ زیادہ حیرا ن کُن ہے۔'' آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تم مجھ سے رکوع و سجوداورنماز روزے کے متعلق پوچھنے آئے ہو ۔''تواس نے عرض کی: ''اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا!آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ بتانے میں کچھ بھی خطا نہ کی جو میرے دل میں تھا۔'' پھرآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جب تم رکوع کرو تو ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر اُنگلیوں کو کشادہ کرو پھر اتنا ٹھہرو کہ ہر عضو اپنی جگہ قرار پکڑ لے۔ سجدہ کرتے وقت پیشانی کو اچھی طرح جماؤ اور چونچ نہ مارو اور دن کے اول و آخر میں نماز ادا کرو۔'' عرض کی:''یانبی اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!اگر میں ان کے درمیان (وقت) پاؤں؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' تو اس وقت نماز پڑھ لو اور ہر مہینے کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھو۔رات کے پہلے حصے میں ارام، درمیانے میں قیام اور آخری میں پھر سو جاؤ، اگر تم درمیان سے آخر تک جاگتے رہوتوبھی نماز پڑھتے رہو۔''وہ ثقفی اُٹھ کھڑا ہوا۔ 

    پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اوراسے بھی ارشاد فرمایا:'' ''اگر تم چاہو تو میں ہی تمہیں بتا دوں کہ کیا پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو توتمہی سوال کرو میں جواب دیتا ہوں۔''اُس نے عرض کی: ''یا نبی اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں جوپوچھنے آیا ہوں آپ خود ہی فرما دیجئے ۔''تو آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''تم یہ پوچھنے آئے ہو کہ حاجی کے لئے کیا اجروثواب ہے جب وہ گھرسے نکلے؟ وقوف ِ عرفہ کا ثواب کیا ہے؟ رمئ جمار کرنے(یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے) کا اجر کیاہے؟ سر کا حلق کروانے کا اجر کیاہے؟اورآخری طواف کرنے کا کیا ثواب ملے گا؟''تو اس نے عرض کی: ''قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ نے میرے دل کی بات بتانے میں کچھ خطا نہ کی ۔''پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جب حاجی گھر سے نکلتاہے تو اس کے ہر قدم کے عوض ایک حسنہ(نیکی) لکھ دی جاتی اور ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے۔وقوفِ عرفہ کے وقت اللہ عزَّوَجَلَّ آسمانِ دنیاپرخاص تجلی فرما کر ارشاد فرماتاہے:''میرے غبار آلوداور پراگندہ سر بندوں کو دیکھو!گواہ ہو جاؤ کہ میں نے ان کے گناہوں کو بخش دیا اگر چہ بارش کے قطروں اور ریت کے ذروں کے برابر ہوں ۔'' اور جب وہ جمروں پرکنکریاں مارتا ہے توکوئی نہیں جانتا کہ اس کا کیا اجر ہے؟ یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا بدلہ دیا جائے گااور جب آخری طواف کرتا ہے تووہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے اس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔''
(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ،الحدیث۱۸۸۴،ج۳،ص۱۸۱)
Flag Counter