Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
106 - 649
لگتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں: ''ہم نے دیکھا کہ کوئی ذِکْرِ الٰہی کر رہا ہے، کوئی رکوع میں ہے، کوئی سجدے میں ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مگن ہے اور کوئی رو رہا ہے۔'' تو فرشتے ان کے لئے بھی دعا و استغفا ر شروع کر دیتے ہیں ۔

    پھر وہ دو سر ے آسما ن کی طر ف جا تے ہیں اور اس طر ح وہ ہر آسما ن میں ایک دن رات امت محمدیہ کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اپنے قیام کی جگہ سدرۃ المنتہیٰ میں پہنچ جاتے ہیں۔سد ر ۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتاہے: ''آج کل کہاں غائب ہو ؟'' تو وہ کہتے ہیں : ''ہم شب ِ قدرمیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمت کے نزول کے وقت اہلِ زمین کے پا س تھے۔'' سدرۃ المنتہیٰ کہتا ہے: ''رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے سا تھ کیا معا ملہ فرمایا ؟'' کہتے ہیں: ''نیکوں کوبخش دیا گیا اور بر و ں کے حق میں ان کی شفا عت قبو ل کرلی گئی ۔''تو سدرۃالمنتہیٰ خو شی سے جھُو منے لگتاہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی تسبیح اور ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کرتا ہے، اور اس پر شکر کر تا ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمديہ (علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام) کو عطا فرمایا۔ توجنت الما ویٰ جھانک کر پوچھتی ہے: ''اے سد ر ۃ المنتہیٰ! کیوں جھو م رہا ہے ؟ ' ' وہ جواب دیتا ہے:'' مجھے میرے رہنے والوں نے حضرتِ جبرائیل علیہ السلام کے حوا لے سے خبر دی ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمديہ علٰی صاحبہاالصلٰوۃوالسلام کو بخش دیا اور بروں کے حق میں نیکوں کی شفاعت قبول فرمالی ہے۔''تو جنت الما ویٰ بلند آوا ز سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور تقدیس کر تی ہے، اور اس پر شکر ادا کرتی ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس امت کو عطا فرمایا۔

     جب''جنتِ نعیم'' سنتی ہے توجھا نک کرپوچھتی ہے:'' اے جنتُ الماویٰ! کیا ہو ا ؟ '' تو وہ کہتی ہے:''مجھے سد ر ۃُ المنتہیٰ نے اپنے رہنے والو ں کے حو ا لے سے حضرتِ جبرائیل علیہ السلا م سے سن کر خبر دی ہے کہ ''اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو بخش دیا اور گنہگاروں کے حق میں نیکوں کی شفا عت قبول فرما لی ہے۔'' تو جنتِ نعیم بھی اسی طرح پکارتی ہے پھر جنتِ عد ن، پھر اس سے کرسی سنتی ہے تو اسی طرح کہتی ہے پھر عر ش سنتا ہے تو پوچھتا ہے: ''اے کرسی کیا ہوا؟'' تو کرسی کہتی ہے: ''مجھے جنتِ عد ن نے جنتِ نعیم کے حو ا لے سے ،جنت ُ الما ویٰ سے سن کرکہ اس نے سِدْرۃُ المنتہیٰ سے، اس نے اپنے رہنے والو ں سے، انہو ں نے حضرتِ جبرائیل(علیہ السلا م )سے سن کر خبر دی کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمدیہ (علٰی صاحبہاالصلٰوۃوالسلام) کو بخش دیا اور نافرمانوں کے حق میں نیکو ں کی شفا عت قبو ل فر ما لی ہے۔''یہ سن کر عرش بھی خو شی سے جھومنے لگتاہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ پوچھتا ہے: ''کیا ہوا؟''حا لا نکہ وہ جا نتا ہے۔ عرش کہتا ہے :''یا رب عَزَّوَجَلَّ ! مجھے کر سی نے حضرتِ جبرائیل علیہ السلا م کے حو ا لے سے خبر دی کہ تونے امتِ محمد يہ علٰی صاحبہا الصلٰوۃوالسلام کو بخش دیا اوربر و ں کے حق میں نیکوں کی شفا عت قبول فرما لی ہے ۔'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ فرما تا ہے جبرائیل نے سچ کہا ،سد ر ۃُ المنتہیٰ نے سچ کہا، جنت الما ویٰ نے سچ کہا ، جنت نعیم ، جنت عدن، کرسی اوراے عرش! تو نے بھی سچ کہا ۔میں نے امتِ محمد يہ(علٰی صاحبہاالصلٰوۃوالسلام)کے لئے وہ اجر و ثواب تیا ر کیا ہے جونہ تو کسی آنکھ