Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
105 - 649
کی قد ر و منز لت اور عظمت بہت زیادہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو الفضل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قو ل ہے کہ شب ِ قدر میں رزق ،مو ت، امراض ، مصا ئب ،بلا ئیں، عافیت، فرحت ، سرور،نفع و نقصا ن اور آئندہ سال کی شب ِ قدر تک کی تمام باتیں لکھ دی جاتی ہیں۔
شب ِ قدر فرشتے جھنڈے لے کر اُترتے ہیں:
    حضرتِ سیِّدُنا ابوہریر ہ اورعبداللہ بن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ جنت نشان ہے: ''جب شب ِ قدر آتی ہے تو سِد رۃُالمنتہیٰ میں رہنے وا لے فر شتے اپنے ساتھ چارجھنڈ ے لے کر اُترتے ہیں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلا م )بھی ان کے سا تھ ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جھنڈا میرے دفن کی جگہ پر، ایک طو رِ سینا پر، ایک مسجد ِ حرام پر اور ایک بیتُ المقدَّس پر نصب کرتے ہیں ،پھر وہ ہر مؤمن اور مؤمنہ کے گھر داخل ہو کر انہیں سلام کہتے ہیں :''اے مؤ من مرد اور عورت ! اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں سلام بھیجتاہے۔''
 (تفسیرقرطبی،سورۃالقدر،تحت الآیۃ۵،الجزء العشرون،ج۱0،ص۹۷)
اور جب فجر طلو ع ہوتی ہے تو سب سے پہلے حضرتِ جبرائیل (علیہ السلا م )زمین وآسماں کے درمیان بلندی پر چلے جاتے ہیں اور اپنے بازو پھیلا دیتے ہیں۔ اور سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ہے، پھر جبرائیلِ امین (علیہ السلام)فرشتوں کو ایک ایک کرکے بلاتے ہیں اور فرشتوں کا نور اور جبرائیل کے پروں کا نور اکٹھا ہو جاتا ہے اور بغیر شعاعوں کے دُودھیا سورج طلوع ہوتا ہے پس جبرائیلِ امین اور دیگر فرشتے مؤ منین و مؤمنات کے لئے دعائے مغفرت کرنے کے لئے زمین وآسماں کے درمیان ٹھہر جاتے ہیں۔ جب شا م ہو تی ہے تو آسما نِ دنیاپر جاتے ہیں توآسما ن کے فر شتے ان سے پوچھتے ہیں:''ہمارے قابل احترام فرشتوں کو مرحبا! کہا ں سے آرہے ہو؟'' تو یہ کہتے ہیں: '' ہم امتِ محمدیہ(علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام) کے پاس سے آرہے ہیں۔''

    آسمانِ دنیا کے فرشتے پوچھتے ہیں: ''اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟'' تو وہ جواب دیتے ہیں: ''امتِ محمدیہ (علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام) کے نیک لوگوں کوبخش دیاگیا اور گنہگاروں کے حق میں اُن کی شفا عت قبو ل کر لی گئی ۔'' تو وہ فرشتے صبح تک اس نعمت کے شکر میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتحمید اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں جواس نے امتِ محمدیہ (علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام)کو عطافرمائی۔ پھرآسمانِ دنیا کے فرشتے اُن سے ایک ایک مر د و عورت کے متعلق پوچھتے ہوئے کہتے ہیں: ''فلا ں مرد نے کیا کیا ؟فلا ں عورت نے کیا کیا ؟''تو وہ کہتے ہیں : ''ہم نے فلا ں شخص کو گذشتہ سال عبا دت کرتے ہوئے پا یا تھا اور اس سال بد عت پر عمل کرتے پا یا۔''تو آسمانِ دنیا کے فر شتے اس کے لئے استغفا ر کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔پھروہ کہتے ہیں: ''گذشتہ سال ہم نے فلاں شخص کو بد عتی پایا تھا مگر اس سا ل عبا دت کر تے ہو ئے پا یا۔'' تو فر شتے اس کے لئے دعا و استغفا ر کرنے
Flag Counter