Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
104 - 649
کے متعلق جوکچھ سن رکھا تھا، کہہ دیا لیکن حضرتِ سیِّدُنا ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما خا مو ش رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسار فرمایا:''اے عبداللہ بن عباس! آپ گفتگوکیوں نہیں کر رہے؟ آپ بھی کچھ بولئے! بولنے پر پابندی نہیں۔''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ یوں گویاہوئے: ''بے شک اللہ عزَّوَجَلَّ طاق ہے اور طاق کو پسند فر ما تا ہے ۔اس نے ایّامِ دنیا کو اس طرح بنایا کہ وہ سات کے گردچکرلگا رہے ہیں (یعنی ہفتہ میں سات دن ہیں)، انسان کوبھی سات چیزوں سے پیدا کیا۔ ہمارے رزق کوبھی سات چیزوں سے پیدا کیا ،ہمارے اوپرسات آسمان بنائے اورنیچے سات زمینیں بچھائیں، سات سمندر بنائے، سجدے میں زمین پر لگنے والے اعضاء سات بنائے، قرآنِ مجیدمیں سات قسم کے رشتہ داروں سے نکاح حرام فرمایا اور سات قسم کے ورثاء پروراثت تقسیم فرمائی، حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوسورۂ فاتحہ کی سات آیات عطا فرمائیں اور شیاطین کو بھی سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔لہٰذا میرا خیال ہے کہ شب ِ قدر رمضا ن کی ستا ئیسو یں را ت ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔'' امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ متعجب ہوئے اور ارشاد فرما یا : ''اے لوگو! ابن عبا س کی طر ح کون روایت بیا ن کرسکتا ہے؟۔''
        (حلیۃ الاولیاء،عبداللہ بن عباس، الحدیث۱۱۲۳،ج۱،ص۳۹۲،بتغیرٍ)
    منقول ہے کہ اس سو ر ت کے کلما ت کی تعدا د تیس ہے اور حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرپراس کا اختتام ہے اور ''ھِیَ'' ستائیسواں کلمہ ہے، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ شب قدر ستا ئیسو یں رات ہے۔
 (تفسیر ابن کثیر، سورۃ القدر، تحت الآیۃ۵، ج۸، ص۴۳۱)
شب ِ قدر کے نور کے متعلق مختلف اقوال:
     ایک قو ل یہ ہے کہ اس رات کو نو ر کے ساتھ خاص کیاگیااور فضلیت دی گئی ہے جو آسما ن سے اللہ عزَّوَجَلَّ کے نو ر ی جھنڈے کی مثل نا ز ل ہو تا ہے۔ ایک قو ل یہ ہے کہ وہ نور بڑے خیمے کی مثل ہے ، بعض نے کہا کہ وہ طو بیٰ در خت کا نو ر ہے، بعض نے کہاکہ رحمت کا نو ر ہے، بعض نے کہا کہ حمد کے جھنڈے کا نو ر ہے، بعض کا قو ل ہے کہ ملا ئکہ کے پروں کا نو ر ہے،ایک قو ل یہ بھی ہے کہ عبادتِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کا نو ر ہے،ایک قول یہ ہے کہ اہلِ معرفت کے اسرارکا نو ر ہے ۔ایک قول یہ ہے کہ یہ ہیبت کا نو ر ہے۔

    پھر شبِ قدر ایسی پسندیدہ رات ہے جوتما م را تو ں سے افضل ہے ۔بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس فرمان
''لَیْلَۃُ الْقَدْرِخَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ''
کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مرادہے کہ اس ایک را ت میں ہزار مہینوں سے زیادہ رحمت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے (گویا اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ) اس ایک را ت میں نا فر ما نو ں اور گناہگاروں پر میری اس سے زیادہ رحمت ہوتی ہے جتنی ہزارمہینوں میں اُن پر ہو تی ہے۔اس رات کو شب ِقدر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہا ں اس
Flag Counter