Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
55 - 58
 چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت سے کچھ ہی عرصے میں مدنی برقع پہننے لگی۔ میرے گھر والے، رشتے دار اور میری سہیلیاں اس حیرت انگیز تبدیلی پر بہت حیران تھے۔ انہیں یہ سب خواب لگ رہا تھا مگر یہ سو فیصد حقیقت تھی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!  اب میں اپنے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دیتی ہوں۔ دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مدنی کام کرنے کی سعادت سے بھی بہرہ مندہوتی ہوں۔ روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے مدنی اِنْعَامات کے رسالے کے خانے پُر کر کے ہر ماہ جمع کروانا میرا معمول ہے۔ ایک روز مجھ پرربّ عَزَّ وَجَلَّ کا ایسا کرم ہوا جس کا میں جتنا بھی شکر کروں کم ہے۔ ہوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہو رہا ہے، میں جس جگہ بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے۔ میں بے ساختہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادل نظر آتے ہیں۔ میں بے اختیار یہ سلام پڑھنا شروع کر دیتی ہوں:
؎	اے صبا مصطفےٰ سے کہہ دینا
غم کے مارے سلام کہتے ہیں
اچانک میرے سامنے ایک حسین وجمیل اور نورانی چہرے والے بزرگ سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز عمامہ سجائے تشریف لے آئے۔ ان کے مقدس چہرے پر تبسم کے آثار تھے۔ ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی کی آواز سنائی دی: ” یہ حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ہیں۔“ پھر میری آنکھ کھل گئی۔ میں اپنی سعادتوں کی