میں جانب مدینہ رواں دواں ہو گئے ہیں، آئیے! آپ بھی اس خوشبودار اور پاکیزہ مدنی ماحول سے منسلک ہو جائیے، ترغیب وتحریص کے لئے ایک اسلامی بہن کی مدنی بہار پیش کی جاتی ہے جو پہلے مخلوط تفریح گاہوں کی شوقین تھی، T.V اور Cable network کے ذریعے فلمیں ڈرامے دیکھنا اور زندگی کے قیمتی لمحات گناہوں میں بسر کرنا جس کی زندگی کا معمول تھا پھر جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وتوفیق سے اسے مدنی ماحول میسر ہوا تو اس کی زندگی میں نیکیوں کے نور سے مُنَوَّر ایک نئی صبح کا آغاز ہوا مزید کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ آفتابِ رِسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدارِ پرانوار بھی نصیب ہو گیا چنانچہ
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا دیدار نصیب ہو گیا
پنجاب ( پاکستان ) کے شہر گلزارِ طیبہ ( سرگودھا ) کی مقیم اسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میری عملی حالت انتہائی ابتر تھی۔ ماڈرن سہیلیوں کی صحبت نے مجھے فیشن و مخلوط تفریح گاہوں کا شوقین بنا دیا تھا۔ نماز پڑھتی نہ روزے رکھتی اور برقع سے تو ( مَعَاذَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ) کَوسَوں دور بھاگتی تھی۔ بس T.V اور V.C.R ہوتا اور میں۔ خود سر اتنی تھی کہ اپنے سامنے کسی کی چلنے نہیں دیتی تھی۔ ان دنوں میں کالج میں فرسٹ ائیر کی طالبہ تھی۔ ایک روز مجھے کسی نے امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ بنام ”وُضُو اور سائنس“ تحفے میں دی۔ بیان معلوماتی اور دلچسپ تھا۔ اس بیان کو سن کر میں اتنی متاثر ہوئی کہ میں نے علاقے میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جانا شروع کر دیا۔ مدنی ماحول کا نور میری تاریک زندگی کو مُنَوَّر کرنے لگا۔ وَقْت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اپنی بُری عادَتوں سے