کے حُصُول کے لیے کوشاں رہیں بالآخر خلیفۂ ثالث، امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دَورِ خِلافت میں آپ کا اِنتقال ہو گیا۔ آپ کی پوری زندگی عشقِ رسول سے عبارت ہے بلکہ انتقال فرمانے کے بعد بھی آپ کے ترکے سے اسی کا درس ملتا ہے کیونکہ آپ کے ترکہ میں بجائے دُنیوی مال ومتاع کے صرف اور صرف نَبِیِّ آخِرُ الزّماں، شہنشاہِ کون ومکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آثارِ مُبَارَکہ وتبرکاتِ شریفہ تھے چنانچہ آپ کے لختِ جگر حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ اس کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حضرت اُمِّ سُلَیْم کا ترکہ
میری والِدہ ماجِدہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سِوائےان چند چیزوں کے کچھ وراثت نہ چھوڑی:
(۱) ...رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی چادر مُبَارَک۔
(۲) ...پیالہ جس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم (پانی وغیرہ) پیا کرتے تھے۔
(۳) ...آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے خیمہ مُبَارَک کا بانس۔
(۴) ...سِل جس پر آپ رامک نامی شے کو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے مُبَارَک پسینے سے (مخلوط کر کے) گوندھ (کر محفوظ کر) لیتی تھیں۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول ایسا پاکیزہ اور پیارا ماحول ہے جس کی برکت سے لاکھوں لاکھ اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا ہے اور وہ گناہوں کی دلدل سے نکل کر نیکیوں کے سفر
________________________________
1 - كنز العمال، كتاب الشمائل من قسم الافعال، شمائل متفرقة، الجزء السابع، ٤ / ٨٥، حديث:١٨٦٨٣