کے جلیل القدر افراد نے احادیث روایت کی ہیں، ان میں سے کچھ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
(۱) ...اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ (۲) ...اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ
(۳) ...حضرت خولہ بنتِ حکیم (۴) ...حضرت اَنَس بن مالِک (1)
(۵) ...حضرت زید بن ثابت اور (۶) ...حضرتِ عَبْدُ اللہ بن عبّاس (2)
رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن
اور تابعین میں سے حضرت ابوسلمہ بن عَبْدُ الرَّحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (3) جیسے فقیہہ، عابِد اور متقی شخص بھی شامِل ہیں۔
چند مروی روایات
یہاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی روایت کی گئی فقط تین۳ احادیث ذکر کی جاتی ہیں، مُلَاحظہ کیجئے:
(۱) ... اولاد کی وفات پر صبر کرنے کی فضیلت
حضرت عَمرو بن عُمر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُسے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بیان کرتی ہیں: میں نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے سنا کہ جن دو۲ مسلمان میاں بیوی کے تین۳ بچے بالغ ہونے سے قبل وفات پا جائیں (اور وہ اس پر صبر کریں تو) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل و رحمت سے انہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا: اور دو۲ ہوں تو؟ فرمایا: دو۲ ہوں (تب بھی یہی اجر ہے) ۔ (4)
________________________________
1 - معرفة الصحابة، ذكر الصحابيات من البنات الخ، باب الراء، ٥ / ٢٣٦.
2 - الاصابة، حرف السين، القسم الاول، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٤٦٢.
3 - الاصابة، حرف السين، القسم الاول، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٤٦٢.
4 - معجم کبیر، باب الياء، ما اسندت ام سليم، ١٠ / ٤٦٢، حديث:٢٠٨١٣.