تو اس جگہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ہی ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے کنگھی وغیرہ کرنے کی خدمت سرانجام دی۔ (1)
مال و اولاد کی دُعا
ایک بار پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے کھجوریں اور گھی پیش کیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: گھی کو اس کی مشک میں اور کھجوروں کو اس کے برتن میں واپس ڈال دو کیونکہ میں روزے سے ہوں۔اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم گھر کے ایک گوشے میں کھڑے ہوئے اور نفل نماز پڑھی اور حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا فرمائی۔ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ! میرا ایک خاص بچہ ہے (اس کے لئے خصوصی دعا فرما دیجئے) ۔ دریافت فرمایا: اُمِّ سُلَیْم! وہ کون ہے؟ عرض کیا: آپ کا خادم اَنَس۔ (حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ فرماتے ہیں:) چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے میرے لئے آخرت اور دنیا کی ہر بھلائی کی دعا فرما دی، (جس کے بعض الفاظ یہ ہیں:) اَللّٰهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَّوَلَدًا وَبَارِكْ لَهٗ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اَنَس کو مال اور اولاد دے اور اسے برکت عطا فرما۔ (2)
جنت کی بشارت
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ ایک بار جب
________________________________
1 - طبقات ابن سعد، ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم الخ، صفيه بنت حيى، ٨ / ٩٦، ملتقطًا.
2 - بخارى، كتاب الصوم، باب من زار قوما فلم يفطر عندهم، ص٥٢١، حديث:١٩٨٢.