Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
48 - 58
  (حجۃ الوداع کے موقعے پر)  جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سرِ اقدس کا حَلْق کروایا، پہلے دائیں  جانب کے موئے مبارک اتروائے اور ارد گرد موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں  (ایک ایک دو دو کر کے)  بانٹ دئیے پھر بائیں جانب کے موئے مُبَارَک اتروائے اور وہ حضرت اُمِّ  سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو عطا فرما دئیے۔ (1)  
حُضُورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہمراہی کا شرف
آپ نے متعدد سفروں میں سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہمراہی کا شرف پایا۔ یہ شرف انہیں کس قدر عزیز تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ کسی سفر سے واپسی پر جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا اور قافلےسے علیحدہ ہو کر راستے میں ہی ٹھہرنا پڑا تو یہ بات ان پر سخت گراں گزری اور ان کے شوہر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: اے پاک پروردگار!  تو خوب جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں تیرے رسول کے ساتھ  (مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ سے)  نکلوں اور ان کے ساتھ ہی داخِل ہوں اور تجھے معلوم ہے کہ میں کس مجبوری میں پھنس گیا ہوں۔  یہ عرض کرنا تھا کہ وہ کیفیت جاتی رہی جس کی وجہ سے انہیں رُکنا پڑا تھا چنانچہ یہ آگے بڑھ كر قافلے کے ساتھ مل گئے اور سرکارِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں مدینہ طَیِّبہ کی پُربہار فِضَاؤں میں داخِل ہوئے۔ 
اس کے علاوہ غزوۂ خیبر سے واپسی کے سفر میں بھی حضرت اُمِّ  سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ذکر ملتا ہے۔ سفر کے دوران جب مقامِ صہبا میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیام فرمایا 



________________________________
1 -   مسلم، كتاب الحج، باب بيان ان السنة يوم النحر   الخ، ص٤٨٥، حديث:١٣٠٥، ملخصًا.