عَنْہ بھی وہیں موجود تھے۔ (1)
خاص لطف وعِنایت
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان پر خاص لطف وعنایت میں سے یہ بات بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیشتر اوقات ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ بخاری شریف میں حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبیِّ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر جب حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے قریب سے ہوتا تو آپ ان کے گھر تشریف لا کر سلام فرماتے۔ (2)
یہ بھی مروی ہے کہ سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ شریف میں حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور اپنی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے سِوا اور کسی کے گھر (کثرت سے) تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بارے میں (یعنی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر کثرت سے تشریف لے جانے کے بارے میں) پوچھا گیا تو فرمایا کہ مجھے اس پر ترس آتا ہے کیونکہ اس کا بھائی شہید ہو گیا ہے (3) جو میرے ساتھ تھا (یعنی میری اطاعت میں تھا) ۔ ( 4)
موئے مُبَارَک کا تحفہ
رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ان پر لطف وعنایت کا ایک یہ منظر بھی دیکھئے کہ
________________________________
1 - مرقاة المفاتيح، كتاب المناسك، باب الحلق، الفصل الاول، ٥ / ٥٥٦، تحت الحديث:٢٦٥٠.
2 - بخارى، كتاب النكاح، باب الهدية للعروس، ص١٣٢٨، حديث:٥١٦٣.
3 - سانحۂ بئر معونہ میں حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کےبھائی حضرت حرام بن ملحان اور حضرت سُلَیْم بن ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا شہید ہوئے جیسا کہ پیچھے بیان ہوا۔
4 - بخارى، كتاب الجهاد و السير، باب فضل من جهز غازيا الخ، ص٧٣٧، حديث:٢٨٤٤.