دیکھا تو وہ لبالب بھرا ہوا تھا اور گھی باہر ٹپک رہا تھا۔ آپ نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جیسے تم اللہ کے نبی (عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو کھانے پیش کرتی ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی تمہیں کھلاتا ہے، اسے خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ ( 1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
متفرق فضائل ومناقب
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بےشمار اوصاف وکمالات اور فضائل ومناقب کی حامِل جلیل القدر صحابیہ ہیں، خاص طور پر بارگاہِ رسالت میں آپ کو اور آپ کے گھرانے کو جو شرفِ باریابی حاصل تھا اور عنایت وکرم کی جو نسبت انہیں ملی تھی ایسا شرف اور ایسی نسبت بہت کم افراد کو ملی ہے چنانچہ حضرت علّامہ شیخ مُلَّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی ان کے شوہر حضرت سیِّدنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ذِکْر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے اَہْلِ خانہ کو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں جو زائد خُصُوصیت اور محبت کی نسبت حاصل تھی وہ کسی اور انصاری صحابی بلکہ بہت سارے مُہَاجِرِیْنِ ابرار کو بھی حاصِل نہ ہو سکی۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تھے جنہوں نے (حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمانے کے بعد) قبر مُبَارَک تیار کر کے اس میں لحد بنائی اور اس میں مٹی کی کچی اینٹیں لگائیں اور آپ ہی تھے جنہیں سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی پیاری شہزادی حضرت اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی تدفین کے لئے خاص فرمایا حالانکہ ان کے شوہر حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
________________________________
1 - مسند ابى يعلى، مسند انس بن مالك الخ، ابو عمران الجونى، ٣ / ٣٥٣، حديث:٤٢١٣، ملخصًا.