اٹھا کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے قریب کرنے لگے۔ فراغت کے بعد جب کاشانۂ اقدس پر تشریف لائے تو حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ نے کھجوریں پیش کیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم اس میں سے تَنَاوُل بھی فرماتے رہے اور تقسیم بھی کرتے گئے حتیٰ کہ تمام کھجوریں ختم ہو گئیں۔ (1)
تھالی بھر کھجوروں کا تحفہ
حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے ان کے ہاتھ ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر بارگاہِ رسالت میں بھجوائیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ان میں سے ایک مٹھی کھجوروں کی بھر کر بعض ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے پاس بھیج دیں پھر ایک اور مٹھی بھری اور وہ بھی بعض دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے پاس بھیج دی پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوئے اور بقیہ کھجوریں آپ نے خود رغبت کے ساتھ تَنَاوُل فرمائیں۔ (2)
گھی سے بھرے مشکیزے کا تحفہ
مروی ہے کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس ایک بکری تھی، آپ نے اس کے دودھ سے گھی نکال کر ایک مشکیزے میں جمع کرنا شروع کیا۔ جب وہ بھر گیا تو اسے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی بارگاہ میں بطور تحفہ بھیج دیا۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے شرفِ قبولیت سے نوازا اور گھی نکلوا کر مشکیزہ واپس بھجوا دیا۔ لانے والے نے اسے گھر میں رکھ دیا۔ جب حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے
________________________________
1 - ابن ماجة، كتاب الاطعمة، باب الدباء، ص٥٣٧، حديث:٣٣٠٣.
2 - مسند امام احمد، مسند المكثيرين من الصحابه، مسند انس بن مالك،٥ / ٣٥٥، حديث:١٢٦٠٠.