Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
44 - 58
دستِ اقدس رکھا اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے چاہا اس کے ساتھ کلام فرمایا۔ پھر آپ نے اس میں سے کھانے کے لئے دس دس آدمیوں کو بلایا اور اُن سے فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا نام لے کر کھاؤ اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے۔ (1)  مسلم شریف کی رِوَایَت میں ہے، حضرتِ اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے سیر  ہو کر کھایا حتی کہ جب سب کھا چکے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: اے اَنَس!  اِسے اُٹھا لو۔جب میں نے اُٹھایا تو معلوم نہیں رکھتے وَقْت زیادہ تھا یا اُٹھاتے وَقْت۔ (2)  حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ تین سو کے قریب تھے۔ (3)  
کھجوروں کا تحفہ
حضرت حُمَیْد رباعی رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ سے رِوَایت ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے مِکْتَل  ( یعنی کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکری )  میں تر کھجوریں رکھ کر حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  کے ہاتھ بارگاہِ رسالت میں بھیجیں۔  (جب یہ کھجوریں لے کر پہنچے تو معلوم ہوا کہ)  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم گھر پر موجود نہیں ہیں، قریب کسی غلام نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمکو کھانے کی دعوت پیش کی ہے (وہاں تشریف لے گئے ہیں)  حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  بھی وہیں حاضِر ہو گئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کھانا شروع فرما چکے تھے، انہیں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ساتھ بلا لیا، غلام نے گوشت اور کدّو شریف سے بنی ثَرِید پیش کی تھی، حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو کدّو شریف بڑی رغبت سے کھاتے دیکھا توکدو کے قاشے اٹھا



________________________________
1 -   بخارى، كتاب النكاح، باب الهدية للعروس، ص١٣٢٨، حديث:٥١٦٣.
2 -   مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب   الخ، ص٥٣٥، حديث:١٤٢٨.
3 -   مسلم،كتاب النكاح، باب زواج زينب   الخ، ص٥٣٥، حديث:١٤٢٨.