Brailvi Books

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم
43 - 58
 آدمیوں کو آنے کی اجازت دو، یوں تمام افراد نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا۔ یہ ستر یا اسّی آدمی تھے۔ (1)  
کھجور کے حلوے کا تحفہ
حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں کہ جب رحمتِ عالَم، شفیع مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح فرمایا تو  (والِدۂ ماجِدہ)  حضرتِ اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے مجھ سے فرمایا: کاش!  ہم حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کریں۔ میں نے عرض کی: ایسا ہی کیجئے۔ پس اُنہوں نے کھجوریں، گھی اور پنیر لیا اور انہیں ہانڈی میں ڈال کر حلوہ تیار کیا اور پھر اسے میرے ہاتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بھیج دیا۔ میں اسے لے کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہو گیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: اسے رکھ دو۔ پھر حکم دیتے ہوئے فرمایا: فلاں فلاں آدمیوں کو بلا لاؤ اور اِن کے عِلاوہ اور جتنے ملیں اُنہیں بھی۔ حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں: میں نے وہی کیا جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم فرمایا تھا، جب میں لوٹ کر واپس آیا تو اس وَقْت کاشانۂ اقدس آدمیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ میں نے رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس حلوے پر اپنا 



________________________________
1 -   بخاری، كتاب المناقب، باب علامات النبوة فى الاسلام، ص٩١١، حديث:٣٥٧٨.